سریکوٹ روڈ کرپشن

Posted on at



  ایف ایچ اے روڈ پر عرصہ چار سال سے کام جاری ہے، عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت میں اس منصوبے کا آغاز کیا گیا، شروع میں ۵ کروڑروپے اس کے لیے رکھے گیے تھے۔ افتتاح کے وقت فرنٹیر ہاہی وے ڈاہریکٹر سیکٹری مواصلات کے علاوہ اس وقت کے ایم پی اے مسلم لیگ ن کے پیر صابرشاہ بھی افتتاحی تقریب میں موجود د تھے۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ یہ منصوبہ ڈھاہی سال سال کے اندر تکمیل کو پہنچ جاہے گا اور تقریبا ١۸ کلومیٹر روڈ کو تین سیکشن مین ٹھکیڈاروں کے حوالے کر دیا گیا روڈ پر بہت دھوم دھام سے کام شروع ہوا لوگ خوش تھے کہ بہت تیز کام ہورہا ہے۔
افتتاح کہ وقت کہا گیا کہ جگہ جگہ روڈ پر تفریحی پارک بناہے جاہیں گے،ریسٹ ہاوس بناہے جاہیں  گےمگر وہ ساری کی ساری باتیں اپنی موت آپ مر چکی ہیں۔

    
ڈھاھی سال کا کام چار سال کے بھد بھی پورا تو کیا آدھا بھی نہیں ہوا اور نہ جانیں مزید کتنے سال لگیں گے اور بے چاری عوام کا صبر کب تک قاہم رہے گا۔ جو بے چاری عوم کچے روڈ سے اٹھنے والی دھول اور مٹی کو برداشت کر رہے ہیں اور جس کی وجہ سے ان میں مختلف بیماریوں کے پھلنے کا بھی خدشہ ہے۔ اور اس کے علاوہ آنے جانے میں جو مساہل پیش آرہے ہیں ان کا تو حساب ہی الگ ہے۔ اور پتہ نہیں ہمارے ٹھیکیدار حضرات کے ڈھاہی سال کب پورے ہوں گے اور وہ عوام بھی سکھ اور چین کا سانس لے گی۔

     
 روڈ کی تعمیر کیلیے ۵۴ کروڑ روپے رکھے گیے مگر کرپشن در کرپشن نے اس رقم کو ایک اندازے کے مطابق ۷۰ کروڑ تک پہنچا دیا۔ اتنی خطیر رقم کے باوجود دونمبریوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ کرپشن کی وجہ سے ٹھیکداروں کو نوٹس بھی جاری ہوہے مگر سیاسی مداخلت کی وجہ سے کرپٹ ٹھیکدار باربار بچتے رہے۔

         
 سریکوٹ کی عوام ایک اور بدبختی سریکوٹ گدوالیاں باہی پاس جو تقریبا دوسال قبل تعمیر ہوا روڈ کی ناقص تعمیر کی وجہ سے اس پر ریکارڈی حادثات ہوہے ہیں اب تک ایک سو پانچ سے زاہد افرادلقمہ اجل بن گیے۔ اس چیز کا فوری ناٹس لیتے ہوہے عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے وزیراعلٰٰی امیر حیدر خان ہوتی نے خطرناک خونی موڑ ختم کرنے اور روڈ کا دوبارہ  سروے کر کے اسکی دوبارہ تعمیر کیلیے ١۸ کروڑ روپے منظور کراہے۔ گزشتہ ایک سال سے اس روڈ پر کام جاری ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

          
 سریکوٹ کے دونوں سڑکوں پر تعمیراتی کام نہ صرف سست روی کا شکار ہے بلکہ کام میں دونمبری اور کرپشن جاری ہے اور نوٹس لینے والا کوہی نہیں ہے۔ خیبر پختونخواہ ہاہی وے اور ورکز اینڈ سروس ڈیپارٹمنٹ نے اس کرپشن کو روکنے سے اپنی آنکھیں بند کرکھی ہیں۔ 



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 0
160