پیسہ اور رشتوں کی اہمیت حصہ اول

Posted on at


مانا کہ انسان کے لیے پیسہ ہر دور میں ضرورت رہا ہے لیکن اتنا بھی کیا کہ انسان اس کی خاطراپنے ماں باپ اور بہن بھائی کو بھی بھول جائےاور پیسے کی لالچ میں انکی بھی کوئی پروا نہ کرے جنہوں نے ہر مشکل میں اس کو سہارا دیا ہے۔


 



 


دیکھا جائے تو جس کے پاس جتنے پیسے ہوتے ہیں وہ اتنا ہی پیسوں کے پیچھے پاگل ہوتا ہے وہ ہر وقت پیسے زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اس کی زندگی میں سکون نام کی کمی ہوتی ہے وہ ہر وقت ان طریقوں کی تلاش میں رہتا ہے جس سے اس کے پیسے زیادہ ہو جائیں ۔


 



 


مثال کے طور پراگرپہلے دور میں پیسہ یا رشتے میں کسی ایک کو سلیکٹ کرنا ہوتا تھا تو لوگ اپنے ماں باپ اور بہن بھائی یا عزیز اقارب کو اہمیت دیتے تھے لیکن آج کل ان رشتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لوگ پیسے کو ہی پہلی ترجہی دیتے ہیں کہیں پیسے کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو ختم کر رہے ہیں اور کہیں پیٹ بھرنے کے لیے۔


 



 


گھر کےپاس ایک بہت امیر عورت رہتی تھی اسکو اسکے شوہر نے فوت ہونے سے پہلے کہا کہ اپنی زندگی میں کچھ بھی اپنے بچوں کے نام نہ کرنا سب کچھ اپنے ہاتھ مہں رکھنا نہیں تو یہ تمہیں چھوڑ دیں گے جب اسکا شعہر اس کو چھوڑ کر چلا گیا تو سب بچوں نے اس کا بہت خیال رکھا اور اس سے پیسوں کی فرمائش کی بچے آپس میں لڑے کہ وہ اپنی ماں کو اپنے پاس رکھیں گے ماں نے پیار میں آ کربچوں میں سب کچھ بانٹ دیا جب سب کچھ بانٹ دیا گیا تو بچے آپس میں لڑے ایک نے دوسرے کو کہا کہ وہ ماں کو اپنے پاس رکھےاور دوسرے نے پہلے کو کہا کہ وہ ماں کو رکھے وہ کھانے کو ترستی تھی محلے والے اس کو کھانا دیتے تھے کوئی بچہ اس کو اپنے گھر میں رکھنے کو راضی نہیں تھا وہ سارا دن سیڑھیوں میں بیٹھی رہتی تھی جب وہ فوت ہوئی تووہ سیڑھیوں میں ہی تھی اور بچے آپس میں لڑ رہے تھے کہ دفنانے کا سارا خرچہ تم کرو گے۔


 



 


کیوں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ نے کتنی محنت سے پالا ہے اور جب ان کی باری آتی ہے تو ہم مخص لالچ کی خاطر ان کی پروا نہیں کرتے کیا وہ اس لیے ہمیں پڑھا لکھا کر بڑا کرتے ہیں؟



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 0
160