اَمَر بالمعروف ونہی عن المنکر

Posted on at


 

اسلام کے اس اصول اخلاق کو پیش نظر رکھنے سے اسلام کا یک دوسرا اخلاقی اصول بھی خود بخود سامنے آجاتا ہے کہ تعلیم محمدیﷺمیں جماعت کے افراد پر ان کی قوت کے بقدر جماعت کے دوسرے افراد کی نگرانی فرض ہے اِسی اخلاقی فرض کا شرعی نام اَمَربالمعروف ونہی عن المنکر ہے یعنی آچھی باتوں کے لیے کہنا اور بری باتوں سے روکنا یہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ممتاز قرار دیا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وہ آچھی بات کا حکم دیتے ہیں اور بُری بات سے روکتے ہیں۔

یہ وہ تعلیم ہے جو تمام دنیا کے مزاہب میں اسلام کی اخلاقی نگرانی کے اصول کو نمایاں کرتی ہے تورات میں قابیل کا یہ فقرا ہے کہ''کیا میں اپنے بھائی کا رکھوالا ہوں''عیسائی مزہب کے اخلاق کا ایک اہم اصول بن گیا ہے اسی اخلاقی اصول نے یورپ کے اس قانونی مسئلہ کی صورت اختیار کر لی ہے جس کا نام شخصی آزادی کی بحالی ہے لیکن اسلام کے قانون میں اس کے بر خلاف ہر شخص کو واقعی اپنے بھائی کا رکھوالا بنایا ہے آنحضرتﷺ نے واقع طور پر فرمایا ہے۔

تم میں ہر شخص نگہبان ہے ''اور تم میں سے ہر شخص سے اس کی زیر زمہ داری لوگوں کی نسبت بازیر ہوگی''لوگوں کو نیکی کی ہدایت کرنے اور بدی سے باز رکھنے کا فرض ہر مسلمان پر واجب ٹھہرایا گیا ہے تاکہ معاشرے میں شرم اور جماعت کا خوف لوگوں کو نیک چلنے کا معاون بنا سکے معاشرے کے افراد اپنے دوسرے بھائی کو ضلالت کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لانے کا زمہ دار ٹھہرے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ آنکھوں کے سامنے ہونے والے برے کام کو صحیح راستے کی ہدایت کرے اگر زبان سے کہنے سے نہ روکے تو ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل میں اسے غلط جانے اور نیکی پر عمل کرنے کی دعا کرے۔



About the author

bilal-aslam-4273

i am a student

Subscribe 783
160