حضرت موسیٰ علیہ سلام کہ قصّہ ٤

Posted on at


فرعون مصر سے نجات پانے کے بعد بنی اسرائیل جزیرہ نماے سینہ میں پہنچ گئے ، تو وہاں الله پاک نے آپ علیہ سلام کو چالیس دن رات کے لئے بلایا . مقصد یہ تھا کہ اس قوم کے لئے جو اب آزاد ہو چکی تھی ، اسے شریعت اور عملی زندگی کے قانون کے مطابق ہدایت دی جایئں . موسیٰ علیہ سلام ، اپنے بھائی ہارون کو اپنے پیچھے چھوڑ کر خود کوہ طور پر چلے گئے . گاۓ بیل کی پوجا بنی اسرائیل اپنی ہمسایہ اقوام اور حکمرانوں کی دیکھا دیکھی کرنے لگ گئے تھے . حضرت موسیٰ علیہ سلام کی غیر حاضری میں سامری نام کہ ایک جادوگر تھا ، اس نے قوم سے سونا اکھٹا کر کے اسے پگھلا کے ایک بچھڑا بنایا

 

اس جادوگر نے جادو کا کچھ ایسا شعبہ دیکھایا کہ وہ بچھڑا آواز بھی نکالتا ، لوگ تو ویسے ہی ضعیف عقیدہ کے تھے ، انہوں نے اس بکھرے کی پوجا کرنا شروع کر دی . الله سے کلام کرنے کہ شرف موسیٰ علیہ سلام کو حاصل تھا .آپ کو حکم ہوا کہ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستر نمائندے اور بھی لے کر جایئں . پھر جب الله تعالیٰ نے موسیٰ علیہ سلام کو کتاب اور فرقان عطا کی تو آپ نے اسے ان نمائندوں کے سامنے پیش کیا ،ان میں سے کچھ شریر کہنے لگے

ہم محض تمھارےبیان پر اسے کیسے مان لیں

کہ خدا تم سے ہم کلام ہوا ہے ، ہم سے نہیں

 

اس نافرمانی پر الله پاک کی طرف سے ان نافرمانوں کو سزا ملی

 

بلاگ رائیٹر

نبیل حسن   



About the author

RoshanSitara

Its my hobby

Subscribe 0
160