وقت کی قدر و قیمت

Posted on at



ایک وقت تھا 1999 کا ہر ایک   دانشور، مکتہ فکر سے تعلق رکھنے والا ، صحافی، لکھاری اپنی تحریروں میں  21 صدی کے مطالق مختلف خیالات کا اظہار کرتے نظر آ رہے تھے ، دینا میں یہ  ہو گا  وہ ہو گا، لیکن بہت ساری ایسی ایجادات جو ہم نے 20 صدی میں نہیں دیکھی تھیں وہ یقیناًابھی ہم سب جدید موصلاتی نظام، دلفریب اونچی بلڈنگز اور دنیا میں نت نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں، اور یہ زمانے کی ساری انفرایت ہمیں وقت کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ آج 2014 کا تیسرا مہینہ ہے۔  اتنی تیزی کے ساتھ وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا۔  وقت کی رفتا کو کوئی نہیں روک سکتا، وقت گزرے گا، کسی کا اچھا کسی کا برا۔


لیکن صیحیح وقت وہ ہے جو اچھا گزر جائے۔



کسی کے لئے یہ وقت طویل بھی ہے اور کسی کے لئے مختصر بھی، اور کسی کے لئے تیز رفتار اور کسی کے لئے سست ترین۔


وقت سب زیادہ تقسیم ہو جانے والی  چیز بھی ہے  اور سب سے کھنچ جانے ولی بھی۔


وقت کو ہی سب سے زیادہ نظرانداز کیا جاتا ہے مگر اس کا سب سے زیادہ افسوس ہوتا ہے۔


وقت ایسی چیز ہے جسکے بغیر کچھ نہیں کیا جا سکتا جو معمولی چیزوں کا ختم کر دیتی ہے اور غیر معمولی چیزوں کو دوام بخشتی ہے۔


وقت سے زیادہ طویل کوئی چیز نہیں کیونکہ یہ ہماری منصوبوں، آرزؤں کی تکمیل کے لئے ہمیشہ ناکافی ثابت ہوتا ہے۔  اس سے زیادہ سست ترین چیز نہیں کہ انتظار کے وقت آپ اس کا تجربہ کر سکتے ہیں اور اس سے زیادہ تیز رفتار کوئی شئے نہیں۔



اس کی تیز رفتاری مسرت کے وقت اور خوشی کے اوقات میں آپ آزما سکتے ہیں۔ طویل ہونے میں اس کی کوئی انتہا نہیں اور چھوٹا ہونے کی بات ہو تہ سیکنڈ کے ہزاروں کیا کروڑوں کیا اربوں حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔


لہذا وقت کی قدرو قیمت اور اس کا ٹھیک استعمال سب سے مقدم ہونا چاہئے کیونکہ انسان کے پاس سب سے زیادہ قیمتی چیز وقت ہی ہے اور جو کھو جانے کی صورت میں لوٹ کر نہیں آتا۔


رسول اللہ ﷺ کا ایک فرمان ہے۔


خدا کی نعمتوں میں  سے دو نعمتیں جن کے متعلق زیادہ تر لوگوں نے دھوکہ کھایا اور ان کی قدر نہیں جانتے، تندرستی اور اوقات فراغت ہیں۔



160