ڈاکٹر عبدل قدیر خان پاکستان کے ہیرو ١

Posted on at


جب پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو ہندؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھانا شروع کر دیے ۔ اپنے سب ہتھیار لے کر مسلمانوں کے گھروں پر حملے شروع کر دیے اور مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے لگے ۔ مسلمانوں نے ان ظالموں سے بچنے کیلئے پاکستان ہجرت کرنا شروع کر دی ۔ لیکن پھر انکے قافلوں کو لوٹنا شروع کر دیا ۔ مسلمانوں کا جو مال و اسباب تھا ۔ ان سے راستے میں چھین لیا گیا ۔ اگر کسی نے تھوڑی سی مزاحمت کی تو ان کو لاتیں کھانا پڑیں بعض کو تو قتل کر دیا گیا ۔ آخری کار کچھ قافلے لٹتے لٹاتے پاکستان پہنچ گئے ۔ ان قافلوں میں سے ایک قافلے میں ایک نوجوان عبدل قدیر خان بھی تھا ۔ جس سے انکی کتابیں تک بھی چھین لی گئیں ۔ آج ہم اس جوان کو ڈاکٹر عبدل قدیر خان کے نام سے جانتے ہیں ۔



آپ ١٩٣٦ کو بھوپال میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے والد علی گڑھ یونیورسٹی میں وائس چانسلر تھے ۔ ڈاکٹر عبدل قدیر خان نے میٹرک تک اپی تعلیم بھوپال میں ہی حاصل کی ۔ انہیں ہاکی کھیلنے اور پتنگ اڑانے کا بہت شوق تھا ۔ اسکے علاوہ تیراکی اور مچھلی پکڑنا بھی انکے مشغلوں میں شامل تھا ۔ اس عمر میں تو نوجوان زیادہ تر کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا ۔ انہوں نے مولانا شبلی نعمانی کی کتاب الفاروق ایک سے زائد بار پڑھی ۔ اسکے علاوہ عبدل الحلیم شرر اور نسیم حجازی انکے پسند کے ناول نگاروں میں شامل تھے ۔ نسیم حجازی کے ناول یوسف بن تشقین اور محمد بن قسم کو انہوں نے بار بار پڑھا ۔



فزکس انکا پسندیدہ مضمون تھا ۔ وہ اپنے پسندیدہ اشعار اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیتے تھے ۔ قائد اعظم انکے آئیڈیل تھے ۔ پاکستان کی تقسیم کے وقت ہندؤں نے جو ظلم پاکستان پر کئے وہ انکو کبھی نہیں بھلا سکے ۔ جسکی وجہ سے انکی خواہش تھی کہ پاکستان مظبوط اور مستحکم بنے ۔ بی ایس سی کرنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ پاکستان میں ملازمت کی ۔ پھر ایم ایس سی کرنے کیلئے ہالینڈ چلے گئے ۔ جہاں انہوں نے اپنی تعلیم کے دوران ہی ایک لڑکی سے شادی کر لی تھی ۔ جو انکی بہترین ساتھی ثابت ہوئی ۔ انکی خواہش تھی کہ پاکستان جا کر اپنے ملک کی خدمات کروں لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔  




About the author

160