اچھا نظام حکومت اور اسلام

Posted on at


ساتویں صدی عیسویں میں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ نے عرب میں جو انقلاب برپا کیا اس کے اثرات اتنے دور رس تھے کہ  اس کو بعد کے ادوار میں تمام انقلابا ت کی بنیاد اور اساس قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی انقلاب صرف ذہنی یا مذہبی نہیں بلکہ یہ ایک پسماندہ قبائلی معاشرے میں معاشرتی اور معاشی انقلاب بھی تھا۔ اسلام نے عوام کی فلاح و بہبود کو حکومت کے اہم ترین فرائض میں شامل کر کے مثالی فلاحی مملکت کا نمونہ پیش کیا۔ اسلام نے بہتر اسلوب حکمرنی کے جو اصول مقر کیے ہیں ان کا ذکر میں اپنے اس مضمون میں کرنا چاہوں گا۔

اسلام میں علم حاصل کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے اور علم حاصل کرنا مرد و عورت کے لیے فرض قرار دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی علم  ملک و قوم کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

آج کل عورتوں کے حقوق کے بارے میں کافی بحث و مباحثے ہو رہے ہیں لیکن اسلام نے زمانہ جاہلیت میں عورتوں کے حقوق کا نعرہ بلند کیا اور عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دے کر  زمانہ جاہلیت کی لاچار عورتوں کو ایک عظیم مقام دیا۔

حضورؐ نے صدیوں پہلے یہ واضع کر دیا تھا کہ (کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی برتی حاصل نہیںبرتری کا معیار صرف تقویٰ قراد دیا گیا۔ اسی لیے اسلام نے غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔

خلفائے راشدین کے دور میں اسلام کی روح جمہوریت پر قائم تھی۔ یہاں تک کہ ایک آدمی کھڑے ہو کر خلیفہ وقت پر سر عام اعتراض کر سکتا تھا۔ خلفاء کا انتخاب جمہوری طریقے پر کیا جاتا تھا۔

اسلام نے سب سے پہلے اس تصور کو عام کیا کہ حکمران قوم کے خادم ہیں ۔ بیت المال کو عوام کی امانت تصور کیا جاتا تھا۔ خلفائے راشدین اپنے ذاتی اخراجات کے لیے بھی بیت المال سے پیسے نہیں لیتے تھے۔

خلفائے راشدین کے دور میں عوام میں اتنا شعور پیدا ہوگیا تھا کہ ایک عام آدمی بھی خلیفہ وقت کے اقدامات پر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا تھا۔ حکومت کے تمام کام مجلس شوریٰ میں مشورے کے لیے پیش ہوتے تھے اور اس پر عوام کی رائے لی جاتی تھی۔

فلاحی مملکت کا تصور سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے، عدالتیں بنوائیں، نہریں کھدوائیں، لائبریریاں قائم کیں اور یتیم بچوں سے لے کر بیوہ عورتوں تک سب کے لیے وظائف مقرر کیے۔

حکومت چلانے میں بنیادی کردار اس کے سربراہ کا ہوتا ہے۔ اگر وہ امانت دار اور دیانت دار ہو تو وہ عوام کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔ خلفائے راشدین کے دور میں خلفاء کی ذاتی زندگیاں نہ صرف عام دنیا کے سربراہاں کے مملکت کے لیے سادگی کی مثالیں تھیں بلکہ انھوں نے بغیر کسی امتیاز کے سب کے حقوق کا یکساں خیال رکھا  اور کسی کو ذات، برادری، مذہب یا زبان کی بنیاد کی بنیاد پر برتری نہیں دی۔ اسلامی ریاست کا بنیادی مقصد لوٹ کھسوٹ سے پاک معاشرہ قائم کرنا ہے۔ جس میں ہر فرد کو بلا امتیاز ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔

انسانی  آزادی کے تحفظات میں عدلیہ اپنا اہم مقام رکھتی ہے۔ عدلیہ اس وقت صحیح معنوں میں  شہریوں کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے جب عدلیہ خود مختار ہو  اور اس پر انتظامیہ کا کوئی دباؤ نہ ہو۔

اسلام نے ہی سب سے  پہلے آزاد عدلیہ کا تصور دیا۔ خلفائے راشدین کے دور میں قاضی (جج) پر خلفائے وقت کی جانب سے کوئی دباؤ نہیں ہوتا تھا اور وہ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوتا تھا۔یعنی اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے پوری دنیا کے حکمرانوں کو اپنے ممالک میں اچھا نظا م حکومت قائم کرنے کا درس صدیوں پہلے دےدیا تھا۔ اب یہ ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کو زریں اصولوں کو اپنا کر اور خلفائے راشدین کی تعلیمات کو سامنے رکھ کر ملک میں ایک اچھا  اور شفاف نظام حکومت قائم کریں۔



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 0
160