پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات

Posted on at


پاکستان سعودی عرب کے لیے محبت ، اخوت اور عقیدت کے بے پناہ جذبات رکھتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں ،نمبر ایک سعودی عرب میں حرمین شریفین کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان کے مسلمانوں کو اس خطے سے والہانہ محبت ہے۔دوم سعودی عرب اور پاکستان دونو کو ہی اتحاد عالم اسلامی کی سلسلہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

                               

سب سے پہلی بار شاہ سعود بن عبدلعزیز پاکستان کے دورے پر 1954کو تشریف لائے۔ اسکے بعد ء1966 میں شاہ فیصل شہید پاکستان تشریف لائے۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

1965 ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں سعودی حکومت نے پاکستان کی بھرپور سیاسی مادی اور اخلاقی اعانیت کی۔ سعودی حکومت بھی ہماری طرح مسئلہ کشمیر کو بہت اہمیت دیتا رہا ہے۔

                         

1973 اور1974جب پاکستان قدرتی آفات کا شکار ہوا تو سعودی حکومت نے سیلاب زدگان اور زلزلہ زدگان کے لیے بہت زیادا آمداد فراہم کی۔ اور اسی طرح 2005 کے زلزلے زدگان اور 2008 کے سیلاب زدگان کی بیت زیادہ آمداد فراہم کی، سعودی عرب نے ہمارے ملک میں کارخانوں کے قیام میں بہت مدد کی۔ جیسے پاک عرب اُویل ریفانری، جو کہ کراچی میں موجود ہے۔

                             

1974 میں ذلفقار علی بٹو اور سعودی حکومت کی کوششوں کی وجہ سے لاہور میں دوسری سربراہی اسلامی کانفرنس منقدہوی ۔ پاکستان وزراعظم اور صدور نے بھی سعودی عرب کا متعدد بار دورا کیا۔1974 میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ خالد پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ سعودی عرب پاکستان میں اسلامی نظام حیات کے نفاذ میں بہت دل چسپی لیتا رہا ہے۔اس لیے سعٓودی عرب نے اپنے تمام تر وسائل سے پاکستان کی مدد کی۔ زکوۃ فنڈذ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اور اس کے لیےسعودی حکومت نے ایک بہت بڑی رقم خرچ کی ۔

                        

پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ میں بھی سعودی عرب نے پاکستان کا بہت ساتھ دیا۔اور ان ممالک کے درمیان علماء کے وفود کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ غرض یہ کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بہت اچھے اور خوشگوار تعلقات ہیں، اور انشااللہ تا قیامت ایسے ہی رہیں گے۔

                              



About the author

haider-ali-7542

Student of BS Chemistry.

Subscribe 436
160