اصحاب سبت کا واقعہ

Posted on at


 

'سبت ' ، اس لفظ کا معنی ' ہفتہ کے دن ' کے ہیں . الله تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے ایک قانون مقرر کیا تھا کہ وہ ہفتہ کے دن میں صرف اور صرف آرام کریں گے اور آرام کے علاوہ وہ عبادت میں وقت گزاریں گے

 

اس روز کے لئے الله تعالیٰ کی ذات نے ہر قسم کے کام سے روک دیا تھا اور ان کو کہا کہ اس دن وہ کوئی بھی دنیاوی کام کو سر انجام نہ دے گے ، یہاں تک کہ وہ کھانا بھی نہیں کھائیں گے . جو شخص اس قانون سے منہ موڑے گا اور نافرمانی کرے گا تو وہ واجب القتل ھو گا


 

لیکن جیسا کہ ھم سب کو بخوبی معلوم ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ حد سے بھی زیادہ نافرمان تھے . یہاں تک کہ ایک بار الله تعالیٰ طور کے پہاڑ کو ان کے سروں پر معلق کر دیا اور ان نافرمان لوگوں سے پختہ عہد بھی لیا تھا مگر اس کے باوجود وہ پھر جاتے تھے . یہ تو الله تعالیٰ کی ذات ہی تھی جو بہت رحمت ، کرم اور فضل والی ہے . جس کی رحمت نے ان کا ساتھ نہ چوڑا ورنہ یہ نافرمان قوم تباہ و برباد ھو چکی ھوتی

 

جب الله رب العالمین نے ' سبت ' کا حکم اتارا تو اس نافرمان قوم نے اس حکم کو سنی ان سنی کر کے پس پشت ڈال دیا اور تاویلیں کرنے لگ پڑے . الله تعالیٰ نے ایک آزمائش رکھی تھی ان کے لئے اور وہ یہ تھی کہ ہفتہ کے دن سمندر کے کنارے کثیر تعداد میں مچھلی آنے لگ گئی


 

بنی اسرائیل کے نافرمان لوگوں نے یہ کیا کہ ہفتہ کے دن کو جا کر بند بنا دیتے تاکہ مچھلی واپس نہ جا پاۓ ، پھر وہ اتوار کو واپس آ کر مچھلیاں پکڑ لیتے

اس طریقے سے انہوں نے الله تعالیٰ کے حکم کی انہوں نے کھلم کھلا نافرمانی شروع کر دی اور اسے بناۓ ہوۓ قانون کی ہدے بڑھ کر بےحرمتی کی اور یہاں  تک کہ ان کے شہروں کھلے بندوں اس روز تجارت بھی شروع ھونے لگ گئی

 

اس طرح انہوں نے کھلم کھلا الله تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دی اور نتیجہ یہ نکلا کہ الله تعالیٰ نے حکم دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ . چنانچہ ان کی شکلیں مسخ ھو گئیں . ان کے بندر بناۓ جانے کی کیفیت میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے


 

بعض یہ سمجھتے ھیں کہ اس نافرمان قوم کے اندر بندروں کی سے صفات پیدا ھو گئیں تھیں ، مگر قرآن مجید کے الفاظ اور انداز بیان سے صاف ظاہر ھوتا ہے کہ یہ مسخ اور بدلاؤ صرف جسمانی حد تک تھا ، صفاتی حد تک  نہیں تھا

 

بلاگ رائیٹر

نبیل حسن  



About the author

RoshanSitara

Its my hobby

Subscribe 0
160