(اردو غزل کا ارتقاء (حصہ دوم

Posted on at


 


اس عہد کی غزل کا نقطہ عروج حالی کی غزل میں نظر آتا ہے۔ ولی نے ہم عصر شعراء کے برعکس غزل کو اولین اہمیت دی ہے اور دوسری اصناف کو ثانوی اس لیے ولی ہیں اس دور کی غزل کی مختص ہیں۔ ان کی غزلیں صوفیانہ مضامین سے پر ہیں۔ ان کا نقطہ نظر جمالیاتی ہیں۔ ان کے ہاں غم انگیز حالات مفقود ہیں۔۔ ولی کی غزل میں محبوب کے سراپا کی طرف بہت زیادہ توجہ نظر آتی ہے۔ چنانچہ ہر غزل میں محبوب کے مختلف اعضاء کے حسن و جمال کے دل پذیر نقشے کھینچے گئے ہیں۔ بالخصوص آنکھ، زلف اور قد کی تعریف زیادہ ملتی ہے۔


 


۔(۱۱۱۲ھ)۔ میں ولی دہلی آئے۔ اہل دہلی نے ان کی غزلیں سنیں تو ان سے متاثر ہوئے۔ ان کا کلام ہر جگہ بڑے شوق سے پڑھانے جانے لگا اور اس کی تقلید شروع ہوئی۔ دہلی کے شعراء نے شروع شروع میں غزل کی بنیاد ایہام گوئی پر رکھی۔ اس دور کے شعراء میں حاتم، آبرو، سراج الدین، آرزو، ناجی، مضمون، ایک رنگ وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ لیکن ایہام گوئی کا زیادہ چرچا نہ رہا۔ اس کے خلاف سب سے پہلے مظہر جانجاناں نے آواز بلند کی چنانچہ یہاں کی شاعری بند ہونے لگی۔


 


ایہام گوئی کے خاتمے کے فوراً بعد ہی میر تقی میر، خواجہ میر درد کا دور شروع ہوا۔ انہوں نے غزل میں تاثیر پیدا کی۔ خارجی مضامین کی جگہ داخلی قسم کے مضمون کثرت سے استعمال ہونے لگے۔ وصل محبوب کے دن لد گئے تھے۔اس لیے غزل گو اپنے محرومیوں اور ناکامیوں سے غزل کو جادو بنا رہے تھے۔ اس دور کے کامیاب شعراء میں میر سر فرست ہیں۔ ان کے ہاں ذاتی ناکامیوں اور زمانے کے حالات دونوں کی نہایت کامیاب، موثر اور موزوں انداز میں عکاسی ہوتی ہے۔ ان کے غزل میں تاثیر پائی جاتی ہے۔ مشکل الفاظ بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔


 


میر درد کی شاعری بھی زمانے کے حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ چونکہ شکست دریخت اور زوال و انتشار کے اس دور میں طبیعتیں گوشہ نشینی کی طرف مائل ہو گئیں۔ اس لیے تصوف کو از حد مقبولیت حاصل ہو گئی۔ چنانچہ درد کے ہاں متوصوفانہ مضامین ملتے ہیں۔



مغلیہ سلطنت کی کمزوری کے باعث دہلی کی زندگی انتشار کا نشانہ بن گئی تھی۔ اس وجہ سے اکثر لوگ اس بدحالی سے پریشان ہو کر ترک وطن پر مجبور ہو گئے۔ ان دنوں نوابان اودھ شعراء کی قدر کرتے تھے۔ لہذا درد کے علاوہ دہلی کے باقی تمام بڑے بڑے شاعر لکھنو چلے گئے اور وہیں پیوند خاک ہوئے۔ ان میں میر، ضاحک، میرحسن، جرات، مصحفی، انشاء وغیرہ قابل ذکر ہیں۔




About the author

Asmi-love

I am blogger at filmannex and i am very happy because it is a matter of pride for me that i am a part of filmannex.

Subscribe 1698
160