(واپڈا کو فوج کے حوالے کرنے کا اراداہ۔۔۔۔۔۔۔۔﴿حصہ سوم

Posted on at


 پاکستان واپڈا کو بجلی چوری کی وارداتوں سے جو بھاری نقصان پہنچایا جاتا ہے، اس کی مثال بھی نہیں ملتی۔

                      

بجلی چوری کا یہ سلسلہ کہی دہاہیوں سے جاری و ساری ہے۔ اور اس کو روکنا انتظامیہ کے بس کی بات نہیں۔ اگرچہ بجلی چوری کی ًمستقل وارداتیںً واپڈا انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہی کی جاتی ہیں اور ان کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔ گریلو صارفین سے لے کر تمام بھاری کارخانوں تک بجلی چوری ایک مستقل مرض تھی اور ہے۔ جس کے علاج کیلیے ابھی تک کوہی مفید نسخہ تجویز نہیں کیا جا سکا۔

                          

ایک محتاط دہاھی سے ہر ماہ ١۲ کروڑ سے زاہد مالیت کی بجلی چوری کر لی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ بجلی کی ترسیل کے اخراجات اور پرچیز ڈیپارٹمنٹ کی بدعنوانیاں اس کے علاوہ ہیں۔ بجلی چوری سے ہونے والے نقصانات اور بجلی چوروں کی تعداد کا اندازہ لگانا مقصود ہو تو صرف لاہور الیکٹرسٹی بورڈ ایریا کی مثال ملیحظہ کی جا سکتی ہے ۔

                          

جس کی 1998 میں تقریبا ۴ ہزار مقدمات زیرسماعت تھے جو تمام بجلی چوری کی وارداتوں سے متعلق ہیں۔ اس وقت صرف لاہور الیکٹرسٹی بورڈ ایریا کے ناہندگان کے زمے ۲ ارب ۷۰ کروڑ اور ۸۰لاکھ روپے سے زاہد رقم تھی جبکہ سرکاری ناہندگان کے زمہ تقریبا ایک ارب روپے کی کثیر رقم تھی۔

                     

ملک کی بڑھتی ہوھی آبادی کی غزاھی ضروعیات کو پوراکرنے اور صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کیلیے ملک میں زیادہ سے زیادہ سستی بجلی پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔ ماہرین نے طویل عرصہ کی عرق ریزی کے بعد حکومت کو رپورٹ پیش کی کہ پانی کے زریعے نہ صرف سستی بجلی پیدا ہوگی بلکہ ڈیموں مین جمع شدہ پانی زرعی مقاسد کو بھی پورا کرے گا جس سے لاکھوں ایکڑ زمین کو زیرکاشت لایا جاسکتا ہے

 

۔قیام پاکستان کے بعد ١۹٦۰ء میں سندھ طاس معاہدے کے تحت ۸ نھی رابطہ نہریں، ۵ بیراج ایک ساھفن اور دو بندھ تعمیر کیے گیے۔ منگلا اور تربیلا ڈیم بھی اسی معاہدے کے تحت بنے۔ تھرمل اور ہاہیڈل کے زریعے بجلی پیدا کرنے کے عمل کا اگر تقابلی جاہزہ لیا جاہے تو تھرمل کسی صورت بھی ہمیں قابل قبول نہیں۔صرف کالاباغ ڈیم تعمیر کرنے سے ۲۵ ارب روپے کی سالانہ بچت ہو سکتی تھی۔ ١۹۹۰ء تک واپڈا اور کراچی الیکٹرک سپلاھی کارپوریشن تھرمل پاور ہاوس چلانے کے لیے ۳١ لاکھ ٹن فرنس تیل استعمال کرتے تھے۔ ۹۵-١۹۹۴ء میں پاکستان صرف ١ ارب ۲۰ کروڑ کا تیل درآمد کرتا تھا۔ جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو یہ رقم بڑھ کر ۲ ارب ۴۰ کروڑڈالر تک جاپہنچی، جو تقریبا پاکستانی ١۰۷ ارب سے زیادہ بنتی ہے۔

         



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1509
160