علاقائی تعصبات اور ملکی سالمیت

Posted on at


مسلمان کا تعلق کسی خاص خطہ ارض سے نہیں۔ وہ ایک ایسے دین کا پیرو ہے جو آفاقی اور عالمگیر ہے۔ مسلمان بہترین امت ہیں۔ اور دنیا کی رہنمائی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ایک مسلمان کا نقطہ نظر وسیع ہونا چاہیے۔ اگر وہ خود محدود ہو کر رہ گیا تو کائنات کی رہنمائی کا فرض ادا نہ کر سکے گا۔ اقبال نے ٹھیک کہا تھا۔

؎سبق پڑھ عدالت کا شجاعت کا صداقت

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

پاکستان ایک مقدس خطہ ارض ہے۔ یہ واحد ملک ہے جس کی بنیاد کسی نطریے پر ہے۔ اسے اسلام اور اسلامی اصولوں کے تحفظ کیلئے قائم کیا گیا۔ چونکہ ہم لوگ ہندوؤں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے تھے  کیونکہ ہمارا دین ، تہذیب اور تمدن جدا جدا ہے۔اسلیے اس دین کے تحفظ اس تہذیب کے نکھار اور اس تمدن کے تقدس کے لیے ہم نےجان، مال اور اولاد کی قربانیاں دیں۔ گویا پاکستان کا قیام اسلام کے لیے ہے۔ اور اس کی بقاء بھی اسلام ہی کے لیے ہے اور اگر ہم اس کا تحفظ چاہتےہیں  تو اس کی تہہ میں بھی یہی مقصد کارفرما ہوتا ہے کہ اللہ کا دین بلند و بالا ہو۔

نئی پود کو علم نہیں کہ پاکستان کیلئے مسلمانوں نے کیا کچھ کیا تھا۔ نئی پود کو بنا بنایا گھر مل گیا۔ نسل نو نہیں جانتی کہ اس ملک کے قیام کے لیے کتنے لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دئیے۔ کتنے مسلمان اپنے گھروں سے نکلے یا نکالے گئے۔ کتنی عزتوں کی قربانی دینی پڑی۔ اس وطن عزیز کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کے لہو کی سرخی ہے۔ہزاروں عصمتوں کے تقدس کی تڑپ بھی ہے اور آنسوؤں اور آہوں کی ایک دنیا بھی آباد ہے۔ یہ سب کچھ محض ایک ملک کو دنیاکے نقشے پر ابھارنے کے لیے نہیں ہوا تھا بلکہ نظریے کو قائم و دائم رکھنے کے لیے ہوا تھا۔

افسوس اس نظریے کی تا ب و تب ہماری  نگاہوں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ اس کے نورسے ہمارے دل منور نہیں رہے۔ نتیجہ معلوم کہ یہ ملک بھی شکست و ریخت اور ٹوٹ پھوٹ کی نذر ہو کر رہ گیا ہے۔ اور ہمارے بڑوں نے اتحاد و آزادی کا جو خواب دیکھا تھا وہ روز بروز بکھرتا جا رہا ہے۔

؎لہو برسا بہے آنسو، لٹے رہرو،کٹے رشتے

ابھی تک نامکمل ہے مگر تعمیر آزادی

علامہ اقبال پاکستان کےمصور ہیں۔ انہوں نےاس کی ایک خیالی تصویر پیش کی اور قائداعظم اس کے بانی ہیں۔ کیونکہ انھوں نے اس خیالی تصور میں حقیقت کا رنگ بھرا۔ دونوں رہنماؤں نے اسلام ہی کو اس اس ملک کی بقا اور قیام کا ذریعہ قرار دیا۔قائداعظم نے اپنی ہر تقریر میں تنظیم،اتحاد اور یقین کا جو سبق دیا اس کی کرنیں آفتار رسالتؐ ہی سے پھوٹتی اور نکلتی ہیں۔ اس تعلق کی خاطر سے ہم دنیا کو پر نور بنا سکتے ہیں۔ اگر ہمارا یہ تعلق باقی نہ رہا تو ہم تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر جائیں گے۔ علامہ اقبال نے بھی بارہا اتحاد ملت کا درس دیا۔ اوراسلام ہی کا نام لیا کہ اسی سے وابسطہ ہو کر ہم اتحاد کو تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

دنیا کی کوئی قوم ہو وہ اس وقت تک پھل پھول نہیں سکتی۔ جب اس میں فکری و وحدت نہ ہواگر ہم یہ وحدت ختم ہو جائے  تو وہ قوم خزاں رسیدہ پتوں کی طرح ٹوٹتی، اڑتی ، بگھڑتی اور بکھرتی نظر آئے گی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم مسلمانوں کےپاس اتحاد کا جو ذریعہ ہے  وہ کسی اور قوم کے پاس نہیں ہے۔ یہ ذریعہ اسلام اور قرآن ہے۔ ہمارا دین بھی ایک ہے، ہمارا اللہ بھی ایک ہے اور نبیؐ بھی ایک ہے۔ ہماری کتاب بھی ایک ہے اور ہماراکعبہ بھی ایک ہے۔ بقول علامہ اقبال؎

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

مگر افسوس کہ ہم ر لحاظ سے مختلف خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم نے زمین کی مٹٰی کو اہم بنا لیا ہے۔ اور نظریے کی آفاقیت اور عالمگیریت کو بھول گئے ہیں۔ ہمارے تعصبات کی مختلف شکلیں ہیں۔ ہم نے علاقائی زبانوں کو اہم سمجھنا شروع کر دیا ہے اور قومی زبان کو ٹھکرا رکھا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا ہے۔



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 0
160