والدین سے حسن سلوک

Posted on at


والدین سے حسن سلوک

والدین کیساتھ حسن سلوک عام حالات میں ایسا عمل ہے جس میں محنت و مشقت زیاہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہر انسان کو فطری طور پر اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی خدمت اور حسن سلوک پر دل خود ہی آمادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف والدین کو اپنی اولاد پر جو شفقت ہوتی ہے اس کی وجہ سے وہ خود اپنی اولاد سے ایسا کام لینا پسند نہیں کرتے جو اس کیلئےمشکل ہو۔ بلکہ معمولی سی خدمت سے بھی خوش ہو جاتے ہیں اور دعا ئیں دیتے ہیں نیز اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو اتنا آسان بنادیا ہے کہ ایک حدیث کی رو سے والدین کو ایک مرتبہ محبت کی نظر سے دیکھ لینا بھی ثواب میں حج اور عمرے کے ثواب کے برابر ہے۔ غرض والدین سے محبت رکھ کر ان کی اطاعت اور خدمت کر کے انسان اپنے نامہ اعمال میں عظیم الشان نیکیوں کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کر سکتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وقت پر نماز ادا کرنا، میں نے پوچھا۔ اس کے بعد کون سا عمل؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک۔ میں نے پوچھا۔ پھر کون سا عمل؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کے راستے میں جہاد۔

حضرت عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور حصول ثواب کی خاطر جہاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں دونوں زندہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر جاؤ اور ان کی اچھی خدمت کرو۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان کی خدمت کر کے جہاد کرو۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر والدین کو خدمت کی ضرورت ہو تو جب تک جہاد فرض عین نہ ہو جائے اس وقت تک ان کی خدمت میں مشغول رہنا جہاد میں جانے سے بھی افضل ہے اور یہ واقعہ عام طور سے مسلمان جانتے ہیں کہ حضرت اویس قرنیؓ یمن کے باشندے تھے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنا چاہتے تھے۔ لیکن چونکہ ان کی والدہ کو خدمت کی ضرورت تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس آنے سے منع کر کے والدہ کی خدمت کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرسکے۔ لیکن والدہ کی خدمت کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مقام بخشا کہ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ان سے دعا کرواتے تھے۔ جب حضرت فاروق اعظمؓ کے زمانے میں وہ مدینہ طیبہ آئے تو حضرت عمر ؓ انتہائی اشتیاق کے ساتھ ان سے ملنے اور ان کی دعا لینے کے لئے تشریف لے گئے۔

بعض مرتبہ لوگ والدین کی زندگی میں ان کی خدمت اور حسن سلوک سے غافل رہتے ہیں لیکن جب ان کا انتقال ہو جاتا ہے تو حسرت کرتے ہیں۔ کہ ہم نے زندگی میں ان کی کوئی خدمت نہ کی۔ اور اب یہ موقع ہاتھ سے جاتا رہا۔ اس لئے ان کی زندگی ہی میں اس دولت کی قدر پہچاننی چاہئے۔

تا ہم والدین کے انتقا ل کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت حا صل کرنے کا دروازہ با لکل بند نہیں ہوتا۔ حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ کہ ہم ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ بنو سلمہ کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آکر پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا میرے والدین کی موت کے بعد بھی کوئی ایس طریقہ باقی رہ گیا ہے جس کے ذریعے میں ان کے ساتھ حسن سلوک کر سکوں؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

ہاں ان کے حق میں دعا کرنا ان کے لئے استغفار کرنا ان کے بعد ان کے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنا اور جن رشتوں کا تعلق ان ہی سے ہے ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور ان کے دوستوں کا اکرام کرنا۔

اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرحوم والدین کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت حاصل کرنے کے طریقے ارشاد فرما دیئے ہیں۔ جن پر ساری عمر عمل کیا جاسکتا ہے۔



About the author

muhammad-haneef-khan

I am Muhammad Haneef Khan I am Administration Officer in Pakistan Public School & College, K.T.S, Haripur.

Subscribe 4122
160