امیر ترین ملک میں بھی غربت

Posted on at


یہ بات قابل توجہ ہے اور ہم پاکستانیوں کو تعصبات سے بالاتر ہو کر غور کرنا چاہیئے۔ کہ آج سے ۸۷ سال پہلے ”یعنی ۱۹۱۶ عیسوی میں مہاتما گاندھی نے لندن میں انگریزوں کے ایک گروہ کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ مہذب کہلانے کا پیمانہ یہ نہیں ہے کہ کسی ملک میں کتنے کروڑ پتی ہیں” یہ کوئی فخر کی بات نہیں کہ وہاں کے عوام میں سے کتنے لوگ فاقہ کشی میں مبتلا ہیں۔

تقریباً ۲۰ سال بعد امریکی صدر روز ویلٹ نے اپنے ایک صدارتی خطاب میں یہی بات یوں کہی کہ” ہماری ترقی کا پیمانہ  یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم امیروں کی تعداد میں سال بہ سال کتنا اضافہ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کہ ہمارا معاشرہ ان ناداروں کو وہ سب کچھ فراہم کرتا ہے جو انہیں چاہیئے۔” یہ بات انہوں نے جنوری ۱۹۳۷ میں اس وقت کہی تھی جب وہ اپنے ملک کو نئی حکمت عملی کے تحت یہ اصول اپنانے کی ترغیب دے رہے تھے کہ ایک مہذب حکومت کا اہم ترین فریضہ یہ ہونا چاہیئے کہ ملکی ذرائع اور سرمایہ کو اسطرح استعمال کرنا چاہیئے کہ جس سے ملک میں امیر و غریب کا فرق کم سے کم تر ہوتا جاۓ۔

 

شائد وہ اس حکمت عمل سے سوویت روس کی اشتراکی تحریک کو معاشی میدان میں شکست دینا چاہتے تھے نہ کہ عسکری طاقت کے زور پر۔ یہی حکمت عملی مغربی یورپ کے بیشتر ممالک نے اختیار کی اور فلاحی ریاستکا تصور ابھرا۔ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ سرمایہ دارانہ نظام میں بھی عوام الناس کی خبر گیری اسی انداز میں کی جا سکتی ہے۔ جسطرح ایک اشتراکی نظام کے تحت چلنے والی ریاست مین لیکن روز ویلٹ صاحب کی فلاحی مملکت والی حکمت عملی اس وقت ریاست ہاۓ متحدہ امریکا میں ترک کر دی گئی۔ جب ریگن صاحب بر سر اقتدار آۓ اور انہوں نے جولائی ۱۹۸۰ میں یہ تاریخی جملے کہے” مجھے یقین ہو چلا ہے کہ ہماری وفاقی حکومت حد سے زیادہ فربہ اور بھاری بھر کم ہو گئی۔



About the author

hadilove

i am syed hidayatullah.i have done msc in mathematics from pakistan.And now i am a bloger at filmannex.and feeling great

Subscribe 2088
160