سندھ

Posted on at


سندھ کے انتہائی پسماندہ اور علم کی روشنی سے محروم شہر جیکب آباد کے مضافات میں اس سے بھی کہیں زیادہ در ماندگی اور پسماندگی کا دور دورہ ہے۔ صدیوں سے روایات کے بچھے ہوۓ جالوں اور پھیلی ہوئی زنجیروں میں اسیر یہاں کے مکینوں کے چہرے ہر وقت تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ذہنوں کی طنابیں کھنچی رہتی ہیں، صرف سانس کے آنے جانے سے ان کے زندہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں کی سفید رنگت اور آنکھوں میں تیرتے ہوۓ سرخ ڈورے انکے وجود پر گزرنے والے شب و روز کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس علاقے میں بلوچوں کے معروف قبیلوں کی کئی شاخیں موجود ہیں۔ جن سے بلوچستان اور پنجاب کے لاکھوں انسانوں کے آج اور کل وابستہ ہیں۔ اسی خطہ زمین پر جاکھرانیوں کا ایک قبیلہ بھی آباد ہے۔ یہ لوگ تعداد میں اوروں کے مقابلے میں خاصے کم ہیں لیکن روایات اور معاشرتی اقدار کے حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں، عزم و ہمت اور جرات و بیباکی کے اوصاف کو انکی معاشی و معاشرتی بدحالی اور ناخواندگی جیسی پستی نے بہت حد تک دھندلا دیا ہے۔ لیکن یہ برسوں سے اپنے وجود کو قائم رکھے ہوۓ ہیں۔

آج سے کوئی ۳۱ برس پہلے انہی جاکھرانیوں میں سے غازی خان نامی ایک نوجوان لیکچرار ہو کر کراچی کے لیئے روانہ ہوا۔ اس وقت شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ کراچی کی زمین اسے اپنا اسیر بنا لے گی۔ کسی کو یہ شبہ بھی نہ تھا، کہ جیکب آباد کے روایتی معاشرے کی گھٹن سے اکتا کر وہ نوجوان سانس لینے کے لیئے اس چہر کی کھلی فضا کو ترجیح دے گا، اور یہی کا ہو جاۓ گا، اسکا پہلا تقرر اردو آرٹس کالج میں ہوا تھا،جہاں اسکی سادگی اور معصومیت کو ناداں دوستوں کی پرکاریوں نے ایسی اذیت اور کرب میں ڈال دیا کہ اسکی شخصیت کے تاروپود بکھر کر رہ گئے۔

ان دنوں اسکی وحشت زدہ آنکھیں اسکے اندر سے اٹھتے ہوۓ بھونچال کو چھپانے کے فن اور ضرورت دونوں ہی سے نا آشنا تھیں۔ وہ لوگوں کی تمسخر کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ لوگوں کو ہنسنے اور دل بہلانے کے لیئے گویا کوئی کھلونا مل گیا تھا۔ ریاکاری سے پاک، سادگی،سچائی اور محبت کے اس پیکر کو تضحیک کے نشتروں نے خاصہ زخمی کر دیا تھا۔ رد عمل میں جب اسکے اندر اشتعال نے کروٹیں لینی شروع کر دیں تو اسکا تبادلہ جامعہ ملیہ کالج فار ایجوکیشن کر دیا گیا۔

 

 



About the author

160