معیشت کے رہنما اور پاکستان کے اصولوں کا تعین

Posted on at


معیشت کا استحکام اور اقتداری ترقی بھی ملک کی بقاء کے لئے  اہم کردار کرتی ہے۔لہٰذا قائداعظم نے اپنی تقریروں میں پاکستان کے معاشی اور اقتصادی نظام پر بھی روشنی ڈالی۔

پاکستان کے مستقبل کے مجوزا نظام اقتصادیات سے متعلق آپ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر یکم جولائی 1948ء کو ارشاد فرمایا:

''مغربی معاشی نظام نے پاکستان کے لیے لاتعداد نا قابل حل مسائل کھڑے کر دیےہیں۔مغربی طرزکا معاشی نظام ہمارے ملک میں خوشحالی اور ترقی پیدا نہیں کر سکتا ،اس لیے ہمیں بہبود کے لیے  کوئی نیا طریقہ وضع کرنا ہو گا اور دنیا کو ایسا معاشی نظام پیش کرنا ہو گا جس کی بنیاد دین اسلامی مساوات اور معاشرتی انصاف پر مبنی ہوں۔

ایسا کرنے سے ہم مسلمان قوم کی حیثیت سے دنیا کو ایسا معاشرتی نظام دینے میں کامیاب ہو جائیں گے جو تمام بنی نوع انسا ن کے لیے امن کا پیغام بن کر آئے گا۔یاد ہے کہ امن ہی سے انسانیت کی بقاء اور خوشحالی قائم رہ سکتی ہے''۔

قیام پاکستان کے وقت ملک کی اقتصادی حالت نا گفتہ تھی۔ایک  طرف ملک بے شمار مسائل میں  الجھاہوا تھا۔ جس کے لیے فوری طور پر مالی وسائل کی ضرورت تھی دوسری طرف سرکاری خزانہ مکمل طور پر خالی تھا۔

 

متحدہ  ہندوستان کے خزانے میں  جو پاکستان کا جائز حق تھا۔وہ بھی بھارت نے منفی رویہ اپنا کر پاکستان کو ادا کرنے سے گریز کیا۔تاکہ  پاکستان کو اقتصادی مشکلات میں  ڈال کر دوبارہ اد غام کرنے پر مجبور کر دیے۔مغربی مبصرین کی بھی ی یہ رائے تھی کہ پاکستان کی بقاء اقتصادی لحاظ سے نا ممکن ہے۔ تاہم  پاکستانی عوام نے ہمت نہیں ہاری اور قائداعظم کی دشمندانہ قیادت  میں پاکستان کو ابتدائی اقتصادی مشکلات سے نکال باہر کیا اور ہندوؤں اور مغربی مبصرین کے تمام دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا۔



About the author

naheem-khan

I am a student

Subscribe 0
160