نوجوان ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

Posted on at

This post is also available in:

کسی بھی ملک کی ترقی کیلۓ نوجوانوں پر سمایہ گزاری بھی ترقی کے راستوں میں سے ایک راستہ ھے۔

  ایک فعال ، متحرک اور بااحساس  نوجوان نسل ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ھے۔جنگ کے خاتمے کیساتھ ساتھ افغان نوجوان تعلیم کیساتھ بھی اپنی محبت دکھا رھے ہیں۔۔اور بہت محبت کیساتھ سیاسی اور اجتماعی اور فرہنگی  اجتماعات میں اپنا کردار ادا کر رھے ہیں۔اور اپنے ملک کی ترقی کیلۓ اپنی محنت کے زریعے ایسا ترقی یافتہ ملک بنانا چاھتے ہیں کہ افغانستان بھی دنیا کے اور ممالک کی طرح ترقی کرے اور افغانستان کے لوگ ایک آرام دہ زندگی گزار سکیں۔.

.

کہا جاتا ھے کہ دنیا کے اور ممالک میں نوجوان سیاست میں دن بہ دن زیادہ ہو رھے ہیں۔مگر افغانستان میں جنگ اور سیاسی رھبروں کی وجہ سے نوجوانوں کا بہت غلط فائدہ اٹھایا جا تا رھا ھے۔اور انہی کی وجہ سے نوجوانوں کو مختلف اداروں میں  آگے بڑھنے سے روکا جاتا تھا۔

نوجوانوں کو قو-میت لسانی اور مذھبی جھنجھٹوں سے ھٹ کر صرف اس بات کی فکر کرنی چاہیۓ کہ کیسے ملک کو ترقی کی راھ پر گامزان کیا جاۓ اور اس تاریکی سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں۔

بدقسمتی سے آجکل افغانستان میں نوجوانوں کا حصہ بہت کم ھے۔نوجوانوں کو چاہیۓ کہ وہ قومی ،قبائلی اور مذھبی  اختلافات کو بُھلا کر قومی سرمایہ جات پر فکر کرنی چاہیۓ اور اس کوشش میں ھوں کہ کسطرح آگے آ کر لوگوں کی حمایت حاصل کی جاسکے اور ملک کی خدمت میں اپنا حصہ زیادہ کریں

.

میرے خیال میں اجتماعی  مسائل اطلاعات ورزش اور تعلیم کے شعبوں میں نوجوں آگے آ سکتے ہیں اور اس میں بہت آگے بڑھ سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی سیاست میں بھی آکر بھی اہم مقامات تک جا سکتے ہیں اگرچہ اس وقت سیاسی میدان میں نوجوان آچکے ہیں مگر اتنے بھی نہیں جتنے ہونے چاہیۓتھے   ،

مگر ابھی تک گورنمنٹ نے کوئی خاص کام نوجوانوں کیلۓ نہیں کیا اور ان کے لۓ تعلیم میں  بھی کوئی خاص کام نہیں کیا ۔اور زیادہ تر نوجوانوں کو اقتصادی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے اور اپنی تعلیم کو جاری نہیں رکھ سکتے۔اور اس مسئلے سے نکلنے کیلۓ نوجوان مھاجرت کرتے ہیں اور ادھر ہی مشکلات میں پھنس جاتے ہیں اور اسکے ساتھ یہ ممالک بھی ان مھاجرین کو ان کےمسائل کی وجی سے سزا ئیں دیتے ہیں ۔۔مگر افغانستان  کی حکومت اس بارے میں کچھ نہیں کر رھی  .

.

مگر 

حکومت نے نوجوانوں کی فکر کو مثبت کرنے کیلۓ کچھ خاص  نہیں کیا اس وجہ سے نوجوان مجبور ہو کر اپنے لۓ نوجوانوں کی تنظیمیں بنا رھے ہیں تا کہ اپنے مسائل کو حل کر سکیں ...

آخر میں میری گزارش ہیکہ نوجوان ہی ہیں جو  کر سکتے ہیں .

قوم پرستی کو ملی یک جھتی میں تبدیل کریں

فلم اینکس پر میرے مضامین کو آپ اس لنک کے زریعے پڑھ سکتے ہیں :

http://www.filmannex.com/Enayatullah/blog_post

عنایت الله مایار

 



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 0
160