دنیا کے ١٠ تیز رفتار ریل نیٹ ورکس - حصّہ اول

Posted on at


کسی بھی ملک میں ذرائع نقل و حمل کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے جن میں ریلوے اور سڑکیں وغیرہ  شامل ہیں جس قدر یہ ذرائع جدید اور تیز رفتار ہوں گے اسی قدر وہ ملک زیادہ ترقی یافتہ کہلاۓ گا کیوں کی ملک کی معشیت کافی حد تک ذرائع نقل و حمل کی مرہون منّت ہوتی ہے کیوں کہ ان کی بدولت تجارت کا نظام تیز اور سہل ہو جاتا ہے .پاکستان ان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے جہاں ریل کی سہولت میسر تو ہے مگر اسکی حالت زار بیان سے باہر ہے جب کے دوسری طرف دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ریل انتہائی جدید اور تیز رفتار ہے اور وہاں سفر کا ایک مؤثر ذریعہ بھی .اگر ہم ان ممالک کے ریلوے نظام کا اپنے نظام سے موازنہ کریں تو سواۓ شرمندگی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا .ذیل میں ہم دنیا کے کچھ ترقی یافتہ اور تیز رفتار ترین ریلوے نظام کا ذکر کریں گے

١.جاپانی ریلوے

اگر تیز رفتار ٹرینوں کا ذکر کیا جاۓ تو دنیا میں سر فہرست جاپانی ریلوے کا نام ہی آتا ہے .جاپان میں جدید ترین اور تیز رفتار ریلوے کے نظام کا آغاز یکم اکتوبر ١٩٦٤ کو ہوا اور جاپانیوں نے پہلی کامیابی تب حاصل کی جب انہوں نے ؛تو کائید شنکسن ؛ نام کی بلٹ ٹرین کو دنیا میں متعارف کروایا جس کی زیادہ سے زیادہ سے رفتار ٢٧٠ کلو میٹر فی گھنٹہ یعنی تقریبا ١٧٠ میل تھی .ان بلٹ ٹرینوں نے  ابتدائی طور پر ٣ سال کے قلیل عرصے میں تقریبا ١٠ کروڑ مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچایا مگر آج کل کے دور کی بلٹ ٹرینیں روزانہ ٣٧٨٠٠٠ مسافروں کو ان کی منزل سے ہمکنار کرتی ہیں.١٩٧٠ کی دہائی کا جب آغاز ہوا تو جاپان میں میگلیو ٹرینیں بھی متعارف کرائی گئیں .ٹوکیو اور اوساکا کے درمیان کا سفر جو پہلے ٢ گھنٹے ١٨ منٹ کا تھا ان جدید ٹرینوں کی مدد سے اب صرف آدھے گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے .اس وقت دنیا کے تیز رفتار ترین ٹرین جے آر مگلیو ایم ایل ایکس ہے جس نے ٢٠٠٣ میں ٣٦١ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر طے کیا 

فرنچ ریلوے کا نظام

یورپ کو دیکھا جاۓ تو فرانس کی ریلوے کا شمار یورپ میں پہلی پوزیشن کا حامل ہے .فرانس میں پہلی ٹی جی وی ٹرین کو ١٩٨١ میں متعارف کروایا گیا .یہ نظام اس وقت پورے فرانس کے ١٥٠ ریلوے اسٹیشنز پر پھیلا ہوا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ  یہ تیز رفتار ٹرین فرانس کے دوسرے پڑوسی ملکوں کو بھی خدمات فراہم کر رہی ہے .اس جدید ٹرین کی رفتار ٢٠٠ میل فی گھنٹہ ہے مگر ٢٠٠٧ میں ایک تجرباتی سفر کے دوران اس نے ٣٥٧ میل کی رفتار سے سفر کیا اس کے بعد سے یہ جاپان کے بعد دنیا کی دوسری بڑی تیز رفتار ترین ریل ہے 

چین کی تیز رفتار ریلوے

چین اس وقت دنیا کے سب سے طویل ترین ریلوے نیٹ ورک کا مالک ہے جو کہ ٦٠٠ میل سے زائد  پر محیط ہے .اور ٨١٩ میل طویل روٹ کی تعمیر پر ٦٠ ملین کیوبک میٹر کنکریٹ استعمال ہوا ہے اور اس روٹ پر سی آر ایچ نامی ٹرینیں ١٨٦ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں .چین میں میں پہلی تیز رفتار ٹرین کا آغاز ٢٠٠٧ میں ہوا اور ان کے ذریعے ٢ برسوں میں 40 ملین مسافروں نے سفر کیا 

اسپین

یورپ کا سب سے لمبا اور طویل ریل کا نیٹ ورک اسپین کے پاس ہے جو کہ ٣٤٣٣ میل لمبا ہے اور اس نیٹ ورک پر ٦ تیز رفتار ٹرینیں چل رہی ہیں .اسپین کی حکومت کی خواھش ہے کے ٢٠٢٠ تک اسکی ٩٠ فی صد آبادی کے لئے ہر ٣١ میل پر ایک تیز رفتار ریل سٹیشن دستیاب ہو .اسپین کی تیز رفتار ٹرینیں اے وی ای سیریز سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی رفتار ٢٥١ میل فی گھنٹہ ہے مگر اسپین میں حد رفتار ١٨٦ میل فی گھنٹہ ہے 

جرمنی کا نظام ریلوے

جرمنی اصل میں تیز رفتار ٹرینوں کے نظام کا مرکز ہے اور سب سے زیادہ تیز رفتار ٹرینیں بنانے والی کمپنی بھی جرمنی سے ہی تعلق رکھتی ہے .جرمن کمپنیز کی تیار کردہ ٹرینیں اس وقت ٣١١ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتی ہیں .٢٠٠٤ میں شنگھائی شہر میں میگلیو ٹرین کو پہلی ایسی ٹرین بننے کا اعزاز حاصل ہوا جس نے ٢٦٧ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا دنیا میں پہلی میگنیٹک ٹرین جرمنی میں ہی تیار کی گیئ تھی مگر اس ٹرین کو کبھی ملک میں تجارتی نقطہ نظر سے چلایا نہیں گیا اور اس نظام کو بھاری اخراجات کے ساتھ ساتھ ٢٠٠٦ میں حادثے کا سامنا بھی کرنا پڑا .١٩٩١ کے بعد سے یہاں انٹر سٹی ایکسپریس آئ سی ٹی نظام چل رہا ہے اور یہاں ٹرینوں کی رفتار ١٩١ میل فی گھنٹہ ہے 



About the author

hammad687412

my name is Hammad...lives in Sahiwal,Punjab,Pakistan....i love to read and write that's why i joined Bitlanders...

Subscribe 0
160