ٹی وی اینڈ بیوی حصہ اول

Posted on at


ٹیلی ویژن کو ایڈیٹ باکس بھی کہا جاتا ہے۔عام خیال یہ ہے کہ جو اس کا ہو جائے وہ دنیا کے کسی اور کام کا نہیں رہتا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں چوبیس گھنٹے ٹی وی چلتا ہے اور سینکڑوں چینل مزے مزے کےپروگرام دکھاتے رہتے ہیں۔

وہاں کے لوگ اپنا  اتنا وقت اس بے وقوفوں کی جنت کے سامنے نہیں گزارتے جتنا ہمارے پسماندہ لوگ گزارتے ہیں۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں وقت کی  قیمت ٹیلی ویژن اور انسان دونوں سے زیادہ ہے ۔

اس لیے یہ احمق گھر یا ایڈیٹ باکس ان لوگوں کو بے وقوف بنانے سے قاصر  رہا ہے۔کام تھکاوٹ  اور آرام کے درمیان ان کو چلتے پھرتے گھنٹے دو گھنٹے یہ لوگ ٹی وی دیکھ لیں گے ورنہ  ہم نے اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بعض امریکی گھروں میں ٹی وی کھلتا ہی نہی ہے

اور بعض کھروں میں تو سرے سے  ہے ہی نہیں۔ ہمارے ایک امریکی دوست کا خیال تھا کہ دنیا میں ٹی وی اور بیوی سے زیادہ بے کا ر چیز  اور کوئی نہیں ہے۔وہ خوبصورت،سمارٹ،تندرست،توانا خوشحال تیس سالہ امریکی نوجوان تھا اس کا کہنا تھا کہ اگر دنیا میں کوئی کام کرنا ہے تو ان دونوں بلاؤں سے پرہیز کرو۔

وہ رات دن ہمیں یہی مشورے دیتا  رہتا تھا ہم اسے کہتے کہ اگر ہم امریکی ہوتے تو ٹی وی  چھوڑتے نہ چھوڑتے بیوی سے ضرور چھٹکارا پا لیتے کیونکہ امریکہ میں بیوی کو چھوڑنا ٹی وی کے چھوڑنے سے بھی آسان ہے۔

بہر حال ہم نے اپنے دوست  کی آدی نصیحت پر تو دل و جان سے عمل شروع کردیا اور ایڈیٹ بننے سے انکار کردیا اور پرائم ٹائم کے دوچار جو ہم ایک رنگین بکسے کے سامنے ہونقوں کی طرح منہ کھولے گزارتے تھے۔



About the author

naheem-khan

I am a student

Subscribe 0
160