خوشگوار زندگی کے رہنما اصول - حصّہ دوئم

Posted on at


کامیابی ان لوگوں کے قدم کبھی نہیں چومتی جو ہمیشہ آنکھیں بند کر کے ایک راستے پر دائیں بائیں دیکھے بنا ہی چلتے جائیں .ان کے راستے میں پہاڑ تو کیا دیوار بھی آجاۓ تو پہلو بدل کر بچنے کی بجاۓ دیوار پر چڑھ کر رکاوٹ کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں .ایسے لوگ ہمیشہ ناک کی سیدہ میں راستے کا انتخاب کرتے ہیں اور تاریخ ایسے لوگوں کے ذکر سے خالی نہیں جو ہمیشہ معمولی خواہشات کے اسیر ہو کر زندگی گزار دیتے ہیں.ایسے لوگوں کی قسمت میں کشادہ راستہ نہیں ہوتا اور ان کی زندگی محض پگڈنڈی پر ہی گزر جاتی ہے .اگر ہم آپ صلّ الله و سلّم کی زندگی کا عمیق مطالعہ کریں تو ہم پر یہ منکشف ہوگا کے آپ صلّ الله و سلّم کی زندگی ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جن سے پتا لگتا ہے کہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے آپ صلّ الله و سلّم کتنے تدبر اور سوچ بچار سے کام لیتے تھے .کبھی آنکھ بند کر کے کوئی قدم اٹھانے ہمیشہ گریز کرتے تھی اور یہی آپکی بے مثال فہم و فراست کی دلیل ہے .مکّہ سے مدینہ کو جب ہجرت کا مرحلہ درپیش تھا تو آپ صلّ الله و سلّم نے ایک دم سے اٹھ کر ہجرت کا فیصلہ نہیں کر لیا بلکہ ٣ ٤ دن ایک غار میں آپ کا قیام رہا جو مدینہ کی مخالف سمت میں تھا .ایسے ہی جنگ خندق کی مثال بھی سامنے ہے جب آپ صلّ اللہ و سلّم نے تمام صحابہ کے مشورے سے خندق کھودنے کا فیصلہ کیا .اس لئے کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنے دوست احباب سے مشورہ کرنا ضروری ہے اس سے صحیح فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے 

 

زندگی کے طویل سفر میں ترقی کرنے ،آگے بڑھنے اور اپنی اصلاح کرنے کے راستے کبھی بند نہیں ہوتے .یہ گنجائش ہمیشہ آپ کے لئے موجود رہتی ہے .اور ان سب کا انسان کی عمر اور تجربے سے کوئی لینا دینا نہیں.انسان صرف اگر اپنے نفس پر قابو پانا سیکھ جائے تو کامیابی صرف چند قدم کے فاصلے پر مسکرا رہی ہوتی ہے .کسی بزرگ نے کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ انسان ایک قدم اگر اپنے نفس پر رکھ دے تو دوسرا قدم کامیابی پر ہوگا .مگر نفس پر قابو پانا آسان کام نہیں.اس کے  لئے انتہی سنجیدگی سے محنت شاقہ کی ضرورت ہے ایسی کوشش کہ نفس پر قابو آپکی عادت ثانیہ بن جاۓ 

 

زندگی پھولوں کی سیج نہیں اس میں نشیب و فراز اور آلام و آزمایش آتی ہی رہتی ہے اور خدا بندوں کو مصیبت میں اس لئے نہیں ڈالتا کہ وہ ان کو مصیبتوں کے سمندر میں غرق کر ڈالے بلکہ اس کا مقصد ہوتا ہے کے انسان مشکلوں کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے .انسان کو خدا کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے خدا کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے مگر نا شکرے لوگ فوری طور پر الله سے شکوے شکایت شروع کر دیتے ہیں یہ طرز عمل انتہائی غلط  اور الله کی تعلیمات کے منافی ہے .آپ صلّ الله و سلّم سے زیادہ پریشانیوں کا مقابلہ کس نے کیا ہوگا آپ صلّ الله و سلّم کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے مگر آپ نے تمام مشکلوں اور تکالیف کا مقبلہ جوان مردی سے کیا اور کبھی حرف شکایت نوک زبان پر نہیں لاۓ 

 

انسان بہت نا شکرا ہے وہ ان نعمتوں کا شکر کبھی ادا نہیں کرتا جو الله نے اس کو عطا کر رکھی ہیں .اگر ہم نعمتوں کا شمار کرنا چاہیں توشاید عمر نوح بھی نا کافی ہوگی ہمیں الله کی بے پایاں نعمتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے ہمیں شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ہم کو یہ جسم ہاتھ اور پاؤں دئے .اگر ہم ان میں سے کسی ایک بھی چیز سے محروم ہوتے تو اندازہ لگائیں زندگی کتنی مشکل ارر تکالیف سے پر ہوتی .صرف روپیہ پیسہ اور سہولتوں کی موجودگی ہی کافی نہیں بلکہ ہم اگر چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف بھی دھیان دیں تو ہم کو احساس ہوگا کے الله نے کیسی کیسی نعمتوں سے ہم کو نوازا ہے جن پر ہم تبھی غور کرتے ہیں جب وہ ہمارے پاس نہیں ہوتیں .آپ صلّ الله و سلّم سے کسی نے آدمی نے دریافت کیا کے جب الله کے سب سے محبوب اور پیارے بندے ہیں تو اتنی زیادہ عبادت کی کیا وجہ ہے تو آپ صلّ الله و سلّم نے نہایت خوبصورت بات ارشاد فرمائی کہ کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟



About the author

hammad687412

my name is Hammad...lives in Sahiwal,Punjab,Pakistan....i love to read and write that's why i joined Bitlanders...

Subscribe 0
160