نماز ۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ بارگاہ خداوندی میں حاضری،۰۰۰حصہ دوم۰۰۰

Posted on at


اللہ تعالی نے نماز کے مسنون طریقہ میں ایسی زبدست تاثیر رکھی ہے کہ قیام ، رکوع ۔ سجدہ، تشہدوغرہ میں مسنون اعمال کا ہر نقل وحرکت میں خیال رکھا جاےئ تو ایسی نماز قبولیت کے قریب بھی ہوتی ہے



 


اور آدمی نماز میں ادھرادھر خیالات کے بھٹکنے سے بھی بچ جاتا ہے جس کے بارے میں عموماً شکیت ہوتی ہےـ اس لیے ایک مرتبہ مکمل نماز کا مسنون طریقہ کسی صاحب علم سے سیکھ لیا جائے اور اگلی نماز اس فکرکے ساتھ ادا کی جائے کہ سابقہ نماز سے بہتر ہو تو چند دنوں کی مشقت سے ہمیں نماز کی برکات محسوس ہوں گی ـ



اور پھر نماز پڑھتے وقت یہ کیفیت حاصل ہوگی کہ ہم اللہ تعالی کے روبروکھڑے ان کی زیارت کرر ہے ہیں ان کودیکھ رہے ہیں اسی کو حدیث شریف میں درجہ احسان ،فرمایا گیاہےـ فریضہ نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں داخل ہونے سے قبل ایک لمحے کے لیے اس چیز کا مراقبہ کر لیا جائے کہ میں احکم الحا کمین کے حضور سجدہ ریز ہونے جارہاہوں تو مجھے نماز اور مسجد کے آداب کا خیال رکھنا ہے



 


اگر یہ فکر پیدا ہوجائے توآدمی ہر اس کام سے بچ سکتا ہے جو نماز یا مسجد کے آداب کے خلاف ہو یہی فکر مسجد میں دنیاوی باتوں سے بچائے گی ـ اور یہی فکر نماز کو مدنون طریقہ پر ادا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔۔



اللہ تعالی ہمیں مسنون نماز کی توفیق عطافرمائے اور ہمیں ہر قسم کی بے ادبی سے محفوظ رکھے ـ آمین



160