وٹامن کی کمی صحت کے لیے خطرہ

Posted on at


 

وٹامنز کی مختلف اقسام ہیں جن میں وٹامن اے ، بی ،سی ،ڈی اور ایف سے ظاہر کیا جاتا ہے متوازن غذ ا حاصل کرنے کے لیے جہاں نشاستہ دار غذائیں ، لحمیات ، اور کئی قسم کی چکنائیاں انسان کے لیے ضروری ہے وہاں غذا میں وٹامن کی شمیولیت بھی ضروری ہے جن کی کمی و بیشی سے انسان کی نشونما ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ بہت سی بیماریان بھی سامنے آجاتی ہے انیسویں صدی کے آخر تک انسان کو ان حیاتیاتی مرکبات کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں مگر بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ایک غذائی ماہر مسٹر فنک نے بتایا کہ اگر یہ زندگی بخش اجزاء کھانے میں موجود نہ ہوں تو انسان طرح طرح کے امراض میں مبتلاء ہو جاتا ہے چونکہ زندگی کے لیے یہ عناصر بے حد ضروری ہین لہذا ان کو ( ویٹا) کہتےہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ویٹا دراصل لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی زندہ کے ہوتے ہیں اور اردو میں انہیں حیاتین کہا جاتا ہے

بعض وٹامن انسان کے لیے بےحد ضروری ہوتے ہیں اور اس لیے اسنانی تجربات بھی سامنے آچکے ہیں کہتے ہیں کہ تھامس کک نامی شخص نے آٹھ ماہ کی طویل سمندری سفر مین ساتھیوں کے ہمراہ گزارے اس دوران اس کے تمام ساتھی مسوڑھوں سے خون بہنے کی بیماری میں مبتلا ہو گئےتب اسے معلوم ہو کہ سمندری سفر کے دوران انہوں نے کوئی ترش پھل نہیں کھایا تھا جس کی وجہ سے وہ سب وٹامن سی کی کمی کا شکار ہو گئے تھے آہستہ آہستہ معلومات میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ بھی انسان کو معلوم ہو گیا کہ بعض چیزوں میں وٹامن کی اچھی خاصی مقدار ہونے کے باوجود انہین پکانے کے بعد تو وٹامن بالکل غائب ہو گئے یا پھر بہت کم رہ گئے اس لیے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کھانے مین کچھ نہ کچھ ابلی سبزیاں یا پھل بہت ضروری ہین تا کہ آپ کو مختلف وٹامنز ضرورت کے مطابق ملتے رہیں

موجودہ دور میں اضافی وٹامن لینا ایک رواج بنتا جا رہا ہے بعض لوگ تو اسے جدیدیت اور فیشن کے نام پر استعمال کرتے ہیں ماہرین صحت اس قسم کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ متوازن غذا لے رہے ہیں تو آپ کو ہرگز اضافی وٹامن کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی آپ میں وٹامن کی کمی ہو سکتی ہے

 

وٹامن نامیاتی مرکب ہوتے ہین ان کی تاثیر بہت تھوڑی مقدار میں ہوتی ہے انسانی زندگی میں نشونما کے لیے ان کے بغیر صحت مکمل نہیں ہوتی اور کوئی نہ کوئی کمزوری رہ جاتی ہے اور وٹامن کے استعمال سے انسان بہت سی بیماریوں محفوظ رہتا ہے ۔ 

 



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 1674
160