ماحولیاتی آلودگی اور انسان حصہ 2

Posted on at



انسان کی اپنی بنائی گئی ہی اشیأ جیسے ائیرکنڈیشنرز، گریج اور ایروسولز وغیرہ سے کلوروفلورکاربن نام کی گیسیں خارج ہوتی ہیں جو اس اوزون کی تہ میں سوراخ کر کے سورج کی مہلک الٹروائلٹ شعاعوں کو ہم تک پہنچیے دیتی ہیں جو اسکن کینسر جیسی مہلک بیماری کا سبب بنتی ہیں۔ اسکے علاوہ ایک اور بڑا خطرہ گرین ہاوس گیسز ہیں             

جو گلوبل وارمنگ مطلب کرہ ارض کی گرمی کا باعث بنتی ہیں جو گرین ہاوس ایفیکٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گرین ہاوس ایفیکٹ کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے پودوں کی نرسریوں میں کچھ پودوں کی سبز رنگ کے شیڈز کے نیچے یا شیشے کے کمروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان پودوں کو بیرونی ماحول سے زیادہ درجہ حرارت ملے۔ گرین ہاوس اس اصول پر کام کرتا ہے کہ یہ خود میں سے روشنی کی شعاعوں کو گزارنے دیتا ہے 

مگر جب روشنی کی شعاعیں حرارت میں بدل جاتی ہیں تو انکو باہر نہیں نکلنے دیتا اسطرح گرین ہاوس ایفیکٹ پیدا کرتی ہیان گیسوں میں سب سے عام کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو جانداروں کے تنفس، ایندھن جلانے اور گاڑیوں کے دھوئیں سے خارج ہوتی ہے اور فضا میں ایک گرین ہاوس کا کام کرتی ہے جو سورج کی شعاعوں کو زمین تک تو آنے دیتی ہے مگر جب یہ شعاعیں حرارت میں بدل جاتی ہیں تو انہیں واپس فضأ میں نہیں جانے دیتی اور زمین کا درجہ حرارت دن بدن بڑھتا جا رہا ہے جسے گلوبل وارننگ کہتے ہیں۔

               
گلوبل وارننگ کے اثرات میں موسموں کی شدت، گرمیوں کا دورانیہ بڑھنا اور سردیوں دورانیہ کم ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ سیلاب آنا اور گلیشئرز کا پگھلنا شامل ہے۔ پھر فصلوں اور دیگر خوراک کے ذرائع کو ہی لے لیجئے، وہ بھی ہم نے مصنوعی بنالئے۔ آبادی بڑھتی گئی اور اس کی بڑھتی ہوئی خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ رقبہ کاشت کیلئے ضرورت پڑھنے لگا جبکہ جنگلات کاٹ کر رہائشی علاقے بنادیئے گئے

اب کم سے کم رقبہ کاشت سے زیادہ سے زیادہ اناج حاصل کرنے کیلئے مصنوعی کھادوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ کیڑوں کے باعث ہونے والے فصل کے نقصان سے بچنے کیلئے فصلوں پر بے تحاشہ کیمکل سپرے کیا جاتا ہے۔ ان کیمیائی سپتے اور مصنوعی کھادوں کے استعمال سے آبی، فضائی اور زمینی قسم کی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ جب مصنوعی کھادیں مٹی میں ڈال دی جاتی ہیں تو یہ کھادیں زیرزمین پانی میں شامل ہو کر کنوؤں، ندی نالوں اور دریاؤں میں مل جاتی ہیں اور یہ ہی پانی جب جانوروں اور انسانوں کے پینے کیلئے استعمال ہوتا ہے تو وہ مختلف بیماریوں کا باعث بنتا ہے اور پانی میں رہنے والے آبِ حیات کے لیے بھی شدید خطرہ کا باعث ہے اور مصنوعی کھادوں سے تیار ہونے والی کھادیں بھی انسانوں کی صحت کیلئے بہت خطرناک ہوتی ہیں اور ان سے مختلف بیماریوں کی امید بھی لگائی جاسکتی ہے۔



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1509
160