غریب عوام تعلیم کیوں حاصل کریں۔۔۔۔۔2۔

Posted on at


غریب عوام تعلیم کیوں حاصل کریں۔۔۔۔۔2۔




خدمات فراہم کرنے والے، بنیادی طور پر ریاست ، بچوں کو پرائمری جماعتوں تک اور اب آٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد، ثانوی جماعتوں تک تعلیم دینے کا ناقابل عبور چیلنج پیش کرتے ہیں۔ سرکاری غفلت، اقربا پروری اور بد عنوانی کو چھپانے کے لئے عام طور پر انہی آبادیوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہ کٹر عقائد اور ترقی دشمن طرز زندگی رکھتے ہیں۔


 



حقیقت یہ ہے کہ جو نظام قائم ہے ہو محروم غریب آبادیوں کی ضروریات سے لا تعلق ہے اور ان کے امنگوں کا احترام نہیں کرتا۔ ڈلیوری سسٹم کے خلاف شکایات اور حل کے لئے تجاعیز سننے کے لئے ان آبادوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوتی۔ برادری کی شرکت کا ماڈل بھی اوپر سے نیچے کی جانب بنایا اور نافذ کیا جاتا ہے۔


 



آبادیوں کو فوائد اور خدمات کا جائزہ وصول کنندہ سمجھنے کا تصور غلط چابت ہو چکا ہے اور ان کےمنتخب نمائدوں کو ان کی ضروریات اور خواہشات کا ترجمان گرداننا اس سے بھی بڑا سراب ہے۔ یہ آبادیاں اپنا موقف خود بیاںن کر سکتی ہیں اور ہو چاہتی ہیں کے ان کی بات سنی جائے۔ مجھے یاد ہے کہ دیہی سندھ میں عورتوں کی حیثیت کے بارے میں اپنی بیس لائن اسٹڈیز کے دوران قطعی ناخواندہ اور برائے نام خواندہ مردوں نے کتنی دانشمندانہ باتیں کی تھیں۔


 



About the author

eshratrat

i really like to write my ideas

Subscribe 0
160