کھانا پارٹ2

Posted on at



کھڑے ہو کر کھانے سے دل اور تلی کے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللھ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کھانا پیٹ کے تین حصوں تک کھانا چاہیے ایک حصہ خالی چھوڑ دینا چاہیے اس سے بیمار نہیں ہوتے ہیں۔ کھانا ہمیشہ اس وقت کھانا چاہیے جب ذہنی اور جسمانی سکون ہو۔ اگر غم و غصے کی حالت میں کھانا کھائے گے تو بہت جلد معدے کے السر اور آنتوں کی بیماری میں مبتلا ہو جائے گے۔ غصے و غم میں کھایا ہوا کھانا زہر کی طرح ہوتا ہے۔ خوشی و مسرت میں کھایا ہوا کھانا معدے کے عضلات اور اعصاب کو طاقت ور بناتا ہے۔


کھانا کھانے کا وقت تعین کیا گیا ہے۔کھانے کے وقت سے پہلے کچھھ بھی کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ دو کھانوں کے وقفوں کے درمیان کوئی بھی چیز کھانے سے جسم میں مختلف امراض پیدا ہوتے ہیں جن کی وجہ سے جسم کی عمارت کھوکلی ہو جاتی ہے۔ رات کو دیر سے کھانے کی وجہ سے بھی جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔ کیونکہ رات کا کھانا دیر سے کھانے کی وجہ سے کھانا جلد ہضم نہیں ہوتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی ہمیں جسم میں سستی اور کاہلی کا احساس ہوتا ہے۔ نہ رات کو ٹھیک سے نیند آتی ہے اور بے معنی خواب بھی آتے رہتے ہیں۔


جو لوگ سست اور راحت پسند ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو کے لیے کھانا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہمیشہ بھوک سے کم ہی کھانا چاہیے اور ورزش کرنی چاہیے۔ روزانہ ورزش کرنا بھوک سے زیادہ نہ کھانے کی وجہ سے جسم میں سستی و کاہلی، فتور اور تبخیر جیسے امراض نہیں بنتے ہیں۔ معدے کی بنی ہوئی چیزوں، گھی میں تلی ہوئے پکوان اور تمام روغن دار غذائیں فوراً ہاضمہ خراب کرتی ہیں اگر انہیں مناسب مقدار میں نہ کھایا جائے تو۔


صخت ورزش اور زیادہ محنت کی بعد بھی فوراً کوئی بھی چیز کھانی نہیں چاہیے اس سے بھی جسم کو نقصان پہنچتا ہے۔ سادہ پکا ہوا کھانا ہمیشہ صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ زیادہ مرچ مصالحہ والے کھانے جیسے چرغہ، روسٹ، چکن اور سجی وغیرہ کھانے سے السر اور معدے میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی غذا کے سیال حصوں کو کھانے کی طرح اور ٹھوس حصوں کو پینا چاہیے۔   



About the author

noor-fatima

M a Engnieer

Subscribe 966
160