ادب اور زندگی (حصہ دوئم )

Posted on at


انیسویں صدی کے اوائل میں فرانسمیں ایک تحریک نے جنم لیا ،جس کا نعرہ تھا "ادب براےادب " –اس تحریک کے علمبر داروں کے نزیک ادب کا سب سے بڑامقصد تخلیق حسن ہے – ان کے نزیک فن،فرد کی شخصیت کا اظہار ہے –یہ انفرادی احساسات و جذبات کا ترجمان ہے –ادب میں افادیت کا تصور ان کے نزیک کفر ہے-اس تحریک کے ایک پرجوش پیرو کے نزیک "ادب بذات خود ایک مقصد ہے ،نہ کہ کسی مقصد کے حصول ہے ذریه-وہ فن کار جو فن کی بجاے کسی اور مقصد کا متلاشی ہو'فنکار ہی نہیں"-

اس نظریے نے ادب کو محدود کر کے اسے اس کی سماجی حثیت سے یکسر محروم کر دیا –اسی تحریک سے ملتی جلتی ایک اور تحریک آج کوئی نصف صدی پیشتر ایک ماہر نفسیات جان ہربوٹ اور اس کے مقلدین نے شروع کی-جس نے ادب کی قلمر و کو اور بھی محدود کر دیا –ان کے نزیک موضوع اور مواد کسی جمالیاتی قدر کا حامل نہیں ہوتا ،یہ تو محض اتفاقی حثیت رکھتا ہے –ان کے خیال میں اصل مسلہ تو یہ ہے کہ بات کہی کیسے گئی ہے؟باقی رہا یہ کہ کہا کیا گیا ہے؟تو یہ ان کے نزیک کوئی اہم شے نہیں ہے-چناچہ یک صورت میں "ادب براے ادب" کا کلیہ "ہیت براے ہیت " کی شکل اختیار کر گیا ہے -

لیکن حقیقت یہ ہے کہ بظاھر تو یہ لوگ ادب براے ادب کے نعرے بلند کرتے رہے ،لیکن اپنی تخلیقات میں زندگی کی حقیقیتوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے –ان کی تحریریں ،ان کا ادب یک بات کا غماز ہے کہ وہ اپنے سماجی ماحول سے کنارہ کشی اختیار نہ کر سکے اور اس ماحول کی طبقاتی کشمکش کو اپنی تخلیقات میں جگہ دینے پر مجبور ہو گئے –



About the author

aroosha

i am born to be real,not to be perfect...

Subscribe 0
160