اردو ادب اور زندگی (حصہ سوئم)

Posted on at


دنیا میں کسی ادب کا بغور مطالہ کریں ،یہ حقیقت واضح ہو جاے گی کہ ادیب اپنے گردو پیش کی زندگی سے کبھی دامن نہیں بچا سکا اور اس زمانے کی زندگی سے بھرپور نقوش اس کی تخلیقات میں نمایاں ھوے بغیر نہیں رہے –اردو غزل ہی کو لیجیے ،اس وقت بھی جب اسے محض گل و بلبل کے مضامین تک ہی محدود سمجھا جاتا تھا اور اس مفہوم "گفتن بزبان " لیا جاتا تھا،یہ اپنے دامن میں اس عہدے کے سیاسی ،سماجی ،معا شرتی اور اقتصادی مسائل کو سمتے ھوے تھی –

خود ولی دکنی کے ہاں معا شرتی شور اور زندگی کے حقائق کے بارے میں ذکر ملتا ہے –میر کی غزلوں میں اٹھارویں صدی کے سیاسی مزاج اور اجتماعی انتشار کا عکس موجود ہے-مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیں :

جس سر کو غرور آج ہے یاں تجوری کا

کل اس پر شور ہے پھر نوحہ گری کا

اب شہر ہر طرف سے ویران ہو رہا ہے

دکھائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے

کیا ان اشعار میں مغل سلطنت کے زوال اور اس کی تباہی کی المناک داستان پوشیدہ نہیں؟اور کیا خواجہ درد کی غزلیات میں دنیا کی بے ثباتی کا شکوہ اور زندگی کے طوفان میں جینے کے ہاتھوں مر چلنے کی شکایت ،اور اس دور کی سماجی بدحالی ،طوائف ا لملو کی اور اخلاق پستی کا تتیجہ نہیں؟ کیا مرزا سودا کی ہجویات اور شہر آشوب ان ہی حالات کی پیداوار نہیں؟اور تو اور افسانوی ادب کے آئینے میں یک زمانے کی تہذیبی زندگی اور معا شرت کے جیتے جاگتے نقوش منھکس نظر آتے ہیں-

چنانچہ ادب براے ادب کے داعیوںکا یہ کہنا ہے کہ ادیب کا کام محض تخلیق حسن ہے اور اجتمائی زندگی اور اس کے مسائل سے اسے کچھ سروکار نہیں ،یا افادیت کا ادب میں کوئی عمل دخل نہیں ،درست نہیں ہے –ادیب کا کام تخلیق حسن کے ساتھ ساتھ زندگی کے حقائق کی عکاسی کرنا بھی ہے –ادب زندگی،معا شرت اور تہذیب کا ترجمان ،عکاس یر نقاد ہوتا ہے-یہ انسانی جذبات و احساسات اور بلند سے بلند خیالات کا فنی اظہار ہے-اس میں سماجی و افادی پہلو بھی ہونا چاییے،فنی اور جمالیاتی بھی-اس کی یہ خصوصیت اسے زندگی سے ہم آہنگ کرتی ہے،کیونکہ زندگی بھی انہی دو پہلوؤں سے عبارت ہے-



About the author

aroosha

i am born to be real,not to be perfect...

Subscribe 0
160