شہر کراچی کل اور آج

Posted on at


 شہر کراچی کل اور آج


کراچی شہر جہاں آج سے کچھ عرصہ پہلے لوگوں کا رش رہتا تھا اور ہر طرف میلے کا سماء لگا رہتا تھا اب وہاں ہر طرف بد امنی، انتشار، قتل وغارت گری ہی نظر آتی ہے۔ کراچی میں روز کوئی نہ کونی بے گناہ دہشت گردی کا نشانہ بنتا ہے اور ہزاروں لوگ بوڑھے، بچے نوجوان اور یہاں تک کے عورتوں کو بھی اسی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن اب کراچی شہر کو خوف کا شہر کہا جاتا ہے کیوں کہ خوف کی یہ لہر ہر سو پھیلی ہو ئی ہے کراچی شہر کے لوگ اب گھروں سے نکلتے ہیں تو انھیں ہر طرف سے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں سے کوئی گولی آئے گی اور وہ اُس کا نشانہ بن جائے گا۔


اس طرح کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی عام ہو گئے اور اس ٹارگٹ کلنگ میں کوئی بھی شخص نشانہ بن سکتا ہے چائے وہ قصور وار ہو یا بے گناہ، چا ہئے وہ بچہ ہو یا کوئی عورت اس کی زد میں آ سکتا ہے۔ شہر کراچی کو کچھ عرصہ پہلے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا لیکن اب اسے دہشت گردی کا گڑھ کہا جاتا ہے جس میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کو دکیلا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ کراچی پر امن شہر کہلاتا تھا اور اس میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے پیار محبت اور امن کے ساتھ رہتے تھے چاہے وہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتے ہوں، کسی بھی برادری سے یا پھر کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں لیکن اب قومیت کی لڑائی ، مسلک کی لڑائی، زبان کی لڑائی نے اس شہر کے امن وامان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ آپس کا پیا ر محبت اور اتفاق ختم ہو گیا ہے۔


کسی دور میں کراچی کو غریب کا شہر کہا جاتا تھا کیوں کہ اُس دور میں ملک پاکستان کے کسی بھی خطے، صوبے سے تعلق رکھنے والا ہو وہ روزگار کے سلسلے میں کراچی آتا تھا اور اپنا روزگار حاصل کرتا تھا لیکن اج کے دور میں اس شہر میں بسنے والے کئی خاندان ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اگر جو کراچی میں آباد ہیں وہ بھی کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے آباد ہیں۔ میری اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ شہر کراچی میں امن وامان کی فضا قائم ہو جائے اور اس شہر میں بسنے والے لوگ چاہئے وہ کسی بھی مسلک، کسی بھی قوم یا کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتے ہوں آپس میں دوبارہ پیار وہ محبت سے رہیں اور اس شہر سے دہشت گردی ، قتل و غارت گری کو ختم کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اور ہماری حکومت کو بھی چاہیے کے اس شہر قائد میں امن وامان قائم کرنے میں سنجیدگی سے کو شش کرنی چائیے۔ تاکہ شہر کراچی ایک دفعہ پھر روشنیوں کا شہر بن جائے، ایک دفعہ پھر غریب کا شہر بن جائے۔


 



About the author

muhammad-haneef-khan

I am Muhammad Haneef Khan I am Administration Officer in Pakistan Public School & College, K.T.S, Haripur.

Subscribe 4122
160