اور محمان رحمت یا زحمت

Posted on at


 اور محمان رحمت یا زحمت


اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی مہمان آنے کی خبر ملتی ہے تو لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے لوگ مہمان کو رحمت کی بجائے زخمت کیوں سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔


 



 


پہلے دور میں جب کسی کے گھر کوئی مہمان جاتا تھا تو خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا اور اس سے خوش اخلاقی سے پیش آیا جاتا تھا مہمان بھی کائی توقع نہیں رکھتا تھا کہ اسے اچھا کھانا کھلایا جائے جو گھر پکا ہوتا تھا وہی کھا لیتا تھا اور خوشی کا اظہار کرتا تھا ۔


اب ایسا نہیں ہے مہمان اور میزبان دونوں میں فرق آگیا ہے مہمان توقع کرتا ہے اسے اچھے سے اچھا کھانا کھلایا جائے اور میزبان توقع کرتا ہے کہ یہ جلدی سے جلدی اپنے گھر جائے اس کی کیا وجہ ہے ہمارے دل تنگ ہو گئے ہیں کہ مینگائی کے دور میں ایک غریب آدمی کو خرچے کی فقر ہوتی ہے۔


 



 


حالانکہ اسلام میں ہے کہ بج کوئی مہمان آتا ہے تو وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے کو آتا ہے لیکن ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ہم مہمان کے آنے پر اتنا تنگ نظری اور آوازری کا کیوں مظاہرہ کرتے ہیں اللہ پاک نے فرمایا کہ جب میں نے کسی کے گھر رحمت بھیجنا ہوتی ہے تو یا میں بیٹی دیتا ہوں یا مہمان بھیجتا ہوں یا بارش ہوتی ہے


مہمان اللہ کی رحمت ہے پھر ایسا کیوں کیا جاتا ہے ۔


 



 


لیکن اب مہمان میں بھی بہت فرق آگیا ہے پہلے دور میں مہمان بے زبان ہوتے تھے جو ملتا تھا کھا لیتے تھے اب ایسا نہیں ہے اب اگر ایسا کیا جائے تو پہلے انہیں باتیں کرتا ہے پھر سارے خاندان میں ذلیل کرتا ہے کہ انہوں نے مجھے یہ کھلایا یا میرے ساتھ ایسا سلوک کیا یہ بات بھی میزبان کو پریشان کرتی ہے تو وہ بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہے یا جان چھڑاتا ہے ۔


مولانا روم کی منسوٰی کتاب میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب مہمان آتا ہے تو آپ گھروں کی صفائی کرتے ہیں اس طرح اپنے دلوں کی بھی صفائی کرو ۔


ہمیں یہ سوچنا چائیے کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں پھر انہیں رحمت کی بجائے زحمت کیوں سمجھا جاتا ہے اور بوجھ کیوں سمجھا جاتا ہے ۔



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160