دور حاضر کے حالات و واقعات حصہ آخری

Posted on at


سکول کالج اور یونیورسٹیاں نجی شعبے میں قائم کرائی جاتی ہیں۔ تا کہ ان کے بچے زیرو میٹر کی لمبی لمبی گاڑیاں لے کر وہاں جائیں۔

اور اپنے حرام خور والدین کی ہو شربا آمد نیوں کے قصے سنا سنا کر مرعوب کرتے رہیں ۔ اس نو دولتئے طبقے کو موبائل فون پر کاروں کے اندر بیٹھے بد ذائقہ برگر کھاتے دیکھیں ۔

اور ان کی باتیں سنیں تو گھن آتی ہے۔ تعفن کے ببکے اٹھتے ہیں علم فضل ہنر شرافت و دیانت کی بات کوئی نہیں کرے گا ۔ کسی کی بھلائی کا وافر پیسہ ہاتھ میں ہونے کے باوجود نہیں سوچے گا کوئی حکیم سعید شہید، عبدالستار ایدھی، نیلسن منڈیلا، پالو فریری، فانان علی شریعتی اور علامہ اقبال

کی بات نہیں کرے گا، کیونکہ ان کو ان کا پتہ ہی نہیں ہے۔ پتہ ہو تو یہ ان کا مضمون ہی نہیں ہے، انھون نے تو غیر ملکی ناموں کے گھوٹے لگائے ہوتے ہیں ۔ یہ خالی ڈھول یہ جوٹے اور دو نمبر لوگ اس وطن کے غریب دیانت دار بچوں کے لیے مسلسل ایک روگ بنے ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے

اور ان کو طنز کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ایک وقت آئے گا جب چور اپنی چوری پر ناز کرے گا۔ ڈاکو سارا وطن لوٹے گا۔

اور گھر بھر کے اس ڈاکے کی نمائش کریں گے۔ اور ایک ایک کا ہاتھ پکڑ کر دکھائیں گے کہ دیکھو کہ ہم نے کس قدر لوٹ مار کی ہے۔ہاں وہ وقت آگیا ہے۔



About the author

naheem-khan

I am a student

Subscribe 671
160