والدین کے لڑائی جھگڑوں کے بچوں پر اثرات حصہ دوئم

Posted on at


والدین کے لڑائی جھگڑوں کے بچوں پر اثرات حصہ دوئم


جب بچہ ماں باپ کے پیار سے محروم ہو جاتا ہے تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے بچہ اپنے ماں باپ سے نفرت کرنا شروع کر دیتا ہے اور غضے میں اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز کرتا۔


 



 


ایسے بچے جن کے گھروں میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں وہ ٹھیک طریقے سے پڑھ نہیں پاتے سکول میں بچوں سے لڑتے جھگڑتےاور انہیں مارتے یا تنگ کرتے ہیں وہ گھر کا سارا غصہ ان پر نکالتے ہیں اور اس  اس طرح کی غلط حرکات کرتے ہیں جن سے ان کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔


 



 


بعض بچے کچھ نہیں بولتے اپنا غم و غصہ اپنے اندر دبا لیتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں وہ یا تو پاگل ہو جاتے ہیں یا خطرناک حد تک نفاسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔


 



 


اکثر بچے نشہ کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ان جھگڑوں سے ان کا پیچھا چھوٹا رہے اور وہ تمام فکروں و غموں اور لڑائی جھگڑوں سے فل وقت تو آزاد ہو جاتا ہے مگر وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو نشہ جیسی بیماری میں مبتلا کر لیتا ہے اور بے راہ روئی کا شکار ہو جاتا ہے۔


 



 


اس کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں رہتی جب اس بار بار دتکارا جاتا ہے تو اس کا غم و غصہ اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ اس سے زیادہ غلط قدم اٹھاتا ہے جن سے وہ لوگوں کا گنہگار اور ملزم بن جاتا ہے۔


 



 


والدین کو اس بارے میں سوچنا چائیے کہ ان کی زرا سی لاپرواہی ان کے بچے کی زندگی تباہ کر سکتی ہے اور وہ معاشرے میں عزت دار شہری بننے سے محروم ہو سکتا ہے اگر ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنی ہے تو ہمیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا ہو گاجو ہمارے لیے اور ہمارے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ 



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160