گفتگو کا انسانی کردار پر اثر ( حصہ اول)

Posted on at


 

بہت ہی پرانا محاورہ ہے ’’ گڑ نہ دو گڑ جیسی بات کہو‘‘ کہنے کا مطلب ہے کہ اگر اچھا نہیں کہہ سکو تو برا کہہ کر کسی کی دل آزاری بھی نہ کرو قرینہ گفتگو کو آداب شائستگی اور تربیت میں تہزیب کے بہت زیادہ دخل کی علامت سمجھا جاتا ہے اس کے برعکس تلخ کلامی ، منہ پھٹ جواب اور بے سلیقہ گفتگو انسان کے کردار پر منفی اثر کی حامل سمجھی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اسیسے نوعیت کے کام جن میں گفتگو کو بہت زیادہ دخل ہے مثلا کاروبار ، انشورنس ، شعبہ فروخت وغیرہ ان میں عموما وہی لوگ زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو نہایت قرینے سے اپنی بات مخاطب تک نہ صرف پہنچاتے ہیں بلکہ حسن بیاں سے ان کو گرویدہ بنا کر ان کا دل موہ لیتے ہیں

اپنے خیالات دوسروں تک کامیابی سے پہنچانے کا ہم ترین ذریعہ گفتگو ہی ہے انسان کے ارتقائی مراحل میں اشاروں کی زبان سے لے کر آج کی اطلاعاتی دنیا تک یہ ذریعہ سب سے زیادہ کار گر تسلیم کیا جاتا ہے یہ ابلاغ کی اہمیت ہے کہ چند سیکنڈ  کے اشتہار میں کہی جانے والی بات انسان کو وہ مصنوعات خریدنے پر مجبور کردیتی ہے کہ جسے فروخت کرنے کے لیے اشتہار تیار اور نشر کیا گیا ہوتا ہے

زبان ہمارے خیالات کا اظہار کرتی ہے اور دوسروں تک ہمارے جذبات و احساسات اور خیالات پہنچانے کا سبب بنتی ہے اکثر لوگ بہت زیادہ بولتے ہیں اور ان میں سے بعض کے متعلق تو ان کے احباب یہ کہتے ہوئے بھی نہیں چوکتے کہ ’’بھئی بہت بے تکا بولتے ہیں‘‘ اکثر بہت ہی خاموش طبیعت کے مالک ہوتے ہیںاتنے زیادہ خاموش کہ لوگ ان کو ’’گونگا‘‘ کا خطاب دے ڈالتے ہیں یہ دونون طریقے غلط ہیں زیادہ بولنا بری بات سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بات اتنی بری بات بھی نہیں کہ اس پر دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے ہاں اگر سوچ کر اور تول کر نہ بولا جائے تو پھر تنقید کا جواز معنی حاصل کر سکتا ہے اس لیے جب بھی بولو سوچ سمجھ کر اور ناپ تول کر بولو چاہے زیادہ ہی کیوں نہ ہول جاو اس میں سلیقے اور شائستگی کا عنصر از خود شامل ہونے لگتا ہے

گفتگو کا قرینہ بھی ایک فن ہے یہ فن اسوقت تک آپ کو نہیں آسکتا  جب تک آپ کے خیالات ہمہ تن گیر اور ذہن وسیع النظر نہ  ہو جائے ان دونوں مقاصد کے حصول کے لیے بنیادی ضروری چیز صرف ایک ہے اور وہ ہے مطالعہ۔    



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 1674
160