بچوں کے ذہنوں پر ڈر کے اثرات حصہ دوئم

Posted on at


بچوں کے ذہنوں پر ڈر کے اثرات حصہ دوئم


 



 


ہم لوگ ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کی پتہ نہیں بچے میں یہ ڈر اور خوف کہاں سے آیا ہے یا یہ اس طرح کا سلوک کیوں کر رہا ہے حالانکہ اس میں قصور ہماری تربیت کا بھی ہوتا ہے بچوں کی تربیت کرتے وقت ہمیں چھوٹی چھرٹی باتوں کا دھیان رکھنا چائیے کہ کہیں یہ بات اس کے لیے نقصان دہ تو نہیں کیونکہ اگر بچے کے اندر ڈر ہو گا تو وہ اچھی طریقے سے پڑھ نہیں پائے گا وہ ڈر یا خوف کی وجہ سے ہر وقت پریشان رہے گا جسکی وجہ سے بچے کو ہی نہیں اس کے ماں باپ کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔


 


 



 


بچے بڑے نازک اور کچے ذہنوں کے مالک ہوتے ہیں اس لیے اس بات کا دھیان رکھنا چائیے کہوہ سیکھنے کی عمر کو ہوتے ہیں ان کو اس عمر میں جو بات بتائی جاتی ہیں وہ ساری زندگی ان کے ذہنوں پر نقش کر جاتی ہیں وہ باتیں سکھانی چائیں جو ساری زندگی ان کے کام آئیں اور وہ ان باتوں سے کامیاب شہری ثابت ہوں نا کہ ان کی تربیت میں اس طرح کی باتیں شامل کی جائیں جس سے ان کو سوائے پریشانی کے کچھ حاصل نہ ہو۔


 



 


ہم فل وقت تو ایسا کہہ کر اپنا کام یا مطلب کی بات بچے سے منوا لیتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کے اس کے ساتھ کیا ہو گا ؟یا ہم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟کہیں ایسا کرنے سے اس کو نقصان تو نہیں پہنچے گا۔


اکثر بچوں کو ہم رات کو سوتے وقت کہانیاں سناتے ہیں یا اس طرح کی باتیں جو اس کے لیے پریشان کن ہوتی ہیں جس سے وہ پریشان یا ڈر جاتا ہے نہیں سنانی چائیں بلکہ اچھی اچھی باتیں یا اسلامی باتیں بتانی چائیں جن کو وہ اپنی زندگی کا اصول بنا لے اور اچھی زندگی کی طرف آئے نا کہ اس طرح کی باتیں کی جائیں جن سے وہ ڈرے اور ساری زندگی وہ ڈر اور خوف اس کے ذہن سے نہ نکل سکے۔


 



 


بعض بچے ان باتوں کا اپنے ذہن پر اتنا برا اثر لیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں اور ساری زندگی اچھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس لیے اگر بچوں کو کامیاب اور صحت مند شہرٰ بنانا ہے تو اپنے بچوں کی نفسایات اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو دیکھنا ہو گا تا کہ بچہ ہر کام احسن طریقے سے کر سکے اور کامیاب شہری ثابت ہو۔


 



 


 


 



About the author

160