بچوں کو پیشہ خود منتخب کرنے دہں حصہ دوئم

Posted on at


والدین ایسا کیوں کرتے ہیں وہ بچے کو اس کی مرضی کا پیشہ کیوں منتخب نہیں کرنے دیتے وہ اپنے بچے کا مستقبل خود تباہ کرتے ہیں اور بچہ بھی خوب تباہی مچاتا ہے جس سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


 



 


اکثر والدین کو میں نے یہ بھی کہتے سنا ہے کہ جو ہمارا خاندانی پیشہ ہے وہی تم نے کرنا ہے چاہے تم جتنا بھی اپنی مرضی سے پڑھ لو بچہ شور مچاتا رہتا ہے کہ میرے اتنے پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ مگر والدین بچے کو آگے بڑھنے سے روکنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے۔


 



 


مجھے یاد ہے ہم جس  زمانے میں سکول جاتے تھے تب تانگے ہوتے تھے اور ہمارا تانگے والا بڑا پڑھا لکھا تھا ہم اسے اکثر کہتے تھے کی تم اتنے پڑھے لکھے ہو پھر تانگا کیوں چلاتے ہو کوئی نوکری وغیرہ کیوں نہیں کرتے ایک دن اس نے ہمیں بتایا کہ اس یہ تعلیم حاصل کی ہے جو اس زمانے میں بڑی اہمیت رکھتی تھی مگر میرے گھر والے مجھے کوئی اور کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی اور کام کرنا ہے تو گھر سے نکل جاؤ یہ کام ہی تو ہماری اصل پہچان ہے میرے پاس کوئی رہنے کی جگہ بھی نہیں ہے جہاں میں چلا جاؤں اس لیے یہی کام کرتا ہوں۔


 



 


والدین یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ان کا بچہ پڑھ لکھ کر ایک اچھا بزنس مین یا اچھا شہری بنے بچے اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں اور والدین اپنی بات پر ڈٹے رہتے ہیں بچہ ماں باپ کی مرضی سے پیشہ تو منتخب کر لیتا ہے لکین کبھی اس میں کا میاب ہونے کی کوشش نہیں کرتا اور زیادہ بچے نقصان اور پریشانی کے کچھ نہیں اٹھاتے


 



۔


بات ادھر پیشے کے بڑے یا چھوٹے ہونے کی نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ بچے کو اس کی مرضی کا پیشہ منتخب کرنے کی اجازت دی جائے تا کہ معاشرے میں صحت مند اور کامیاب ترین شہری ثابت ہو اور ملک کو اس کی تعلیم اور ہنر کا فائدہ ہو ملک ترقی اور خوشخالی طرف جائے اور اس طرح کے اوقعات نہ معاشرے میں پیش آئیں جن سے معاشرے میں بد امن اور انتشار پھیلےوالد



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160