بچے خوشحال تو ملک خوشحال حصہ دوئم

Posted on at


ان بچوں کو یہ کام کرنے کا کوئی شوق نہیں ہوتا یہ بچے کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے ایسے کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ان میں سے کسی کا باپ نہیں ہوتا تو کسی کی ماں نہیں ہوتی یا پھر کسی کے دونوں ہی نہیں ہوتے کسی کا باپ نشہ کرتا ہے تو کسی کی ماں اپاہج ہوتی ہے عام طور پر یہی وجوہات ہوتی ہیں بچوں کے گھر سے کام کے لیے نکلنے کی۔


 



 


ہمارے ایک جاننے والے تھے انھوں نے ہمیں بتایا کہ ان کے محلے میں ایک اچھا گھرانا تھا وہ لوگ کھاتے پیتے اچھے لوگ تھے ان کی کپڑے کی دکان تھی چھوٹی سی ان کی فیملی تھی لیکن جو ان کا باپ تھا وہ اپنے بہن بھائیں میں سے سب سے بڑا تھا اس لیے والدین نے فوت ہوتے وقت اس کے بڑا ہونے کی وجہ سے جائیداد کا کچھ زیادہ حصہ اس کے نام کر دیا دوسرے بہن بھائیوں کو یہ بات گوارہ نہ گزری اسلیے انھوں نے جائیداد لینے کی خاطر اپنے بھائی کو باتوں میں لے کر اپنی مجبوریاں ظاہر کر کے جائیداد اپنے نام کروا کے اسے گھر سے نکال دیا ان لوگوں نے کرائے پر گھر تو لے لیا لیکن ان کا باپ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا اور اسے ہارٹ اٹیک ہو گیا اور وہ فوت ہو گیا اور اپنے بچوں کو دنیاں میں اکیلے لڑنے کے لیے چھوڑ دیا ان کی ماں کو دکان کا سہارہ تھا کہ دکان تو ہے جس سے ہمارے گھر کا چولہا جلتا رہے گا۔۔۔۔۔


جاری ہے۔



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 0
160