کیلوریز کے بغیر خوب کھایئے

Posted on at


کیلوریز کے بغیر خوب کھایئے



کھانا ہمارے لئے پیغام صحت تو ہوتا ہے لیکن یہ بیماری کا سبب بھی بن سکتا ہے- فرض کیا جائے کہ ہم کسی شادی کی دعوت میں مدعو ہیں، جب کھانا لگایا جاتا ہے مرغن کھانوں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے، کھانے کے اعلان کے ساتھ ہی چمچوں ، پلیٹوں کی جھنکار سی بج اٹھتی ہے-  اصل میں ادھر سے ہی ہماری ذہانت کی پڑتال ہوتی ہے- دعوت میں جو لوگ کھانا کھانے کے لئے آتے ہیں ان کا  تو کام ہی کھانا ہے مگر ہم کیا کر رہے ہیں؟ کیا یہ طریقہ کار درست ہے کہ ایک وقت کا روٹین سے ہٹ کر کھا لینا یا بے احتیاطی سے مرغن غذا لے لینا بھاری نہیں پڑتا- اگر ہم دعوت کے وقت بھی طبعی میلان ، ذائقہ ، جسمانی ضرورتوں اور رجحان کو مد نظر رکھ کر پلیٹ بنائیں تو اس بات کی ضمانت ہے کہ ہم ٥٠ فیصد تک بیماریوں سے بچے رہیں گے-



آج  کے اس دور میں بہت کم طبقوں میں دعوتوں میں سادہ اور فطری غذاؤں پر مشتمل مینیو پیش کیے جاتے ہیں- ہماری خود ساختہ ثقافتی رسموں میں مرغن اور اعلی سے اعلی غذائیں دستر خوان پر موجود نہ ہوں تو ہمیں اپنی ساکھ خطرے میں محسوس ہوتی ہے- حالانکہ ہم صحت کے اس نکتے سے واقف ہیں کہ مناسب اور متوازن غذائیں  خاطر خواہ حد تک موذی اور ضدی امراض سے محفوظ رکھتی ہیں- مناسب اور متوازن غذائیں ایسے اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں جو ہمارے بدن کی بنیادی اور لازمی ضرورت ہوتی ہیں- ان اجزاء میں پوٹاشیم، گندھک، کلشیام، فاسفورس، جست، آیوڈین، کاربوہائڈریٹس، کیرڈن اور پروٹینس وغیرہ شامل ہیں-



ہمارے ہاں شادی بیاہ کی رسموں میں جو  کھانے دستر خوان پر پیش کیے جاتے ہیں ان میں مٹھاس اور چکنائیوں کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے لہذا اپنے لئے پلیٹ بناتے وقت چکنائی کو پیچھے ہٹا دیں اور یاد رکھیں کہ یہ چربیلے ذرات جوڑوں میں جمع ہو کر موٹاپا، گھٹنوں کے اور کمر کے درد کے علاوہ پیٹ بڑھنے کی شکایت میں مبتلا کرتے ہیں- یہی چربی جب خون میں شامل ہوتی ہے تب اسے گاڑھا کر کے بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض کا سبب بنتی ہے اس کے علاوہ یہی فاضل مادے گردوں پر اثر انداز ہو کر یورک ایسڈ اور یوریا کی زیادتی کا ذریعہ بنتے ہیں-



گائے کے گوشت میں تقریبا ٣٠٠ گرام کیلوریز ہوتی ہے اگر شادی کے کھانے میں ہم نے گوشت کا ایک بڑا حصہ لیا ہے تب اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے کولیسٹرول اور کیلوریز کے اضافے کو یقینی طور پر اپنی خوراک کا حصّہ بنا لیا ہے-  اگر ہم غور سے دیکھیں تو اس دنیا میں بڑی تعداد افلاس اور بھوک سے نہیں مر رہی بلکہ "بسیا خوری" یعنی زیادہ کیلوریز والے کھانے کھا کر مر رہی ہے اور ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی خوراک میں توازن پیدا کریں- کھانے کے درمیان وقفہ مناسب حد تک رکھیں تاکہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ایک آسودہ اور خوشگوار زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں- ایک تندرست انسانی جسم کو ایک دن میں ٢٦٠٠ کیلوریز درکار ہوتی ہے اگر ہم میں سے کوئی صحت مندی کے ساتھ طویل عمر کا خوائش مند ہے تو وہ اپنی جسمانی ضرورت کو مد نظر رکھ کر کیلوریز کا استعمال کرنا سیکھ لے اس سے وہ بیماریوں سے دور ہو کر تندرست اور سمارٹ ہو گا-  



 



About the author

Kiran-Rehman

M Kiran the defintion of simplicity and innocence ;p

Subscribe 1892
160