اسرارالحق مجاز کے حالات زندگی اور ان کی پرکشش شاعرانہ خصوصیات

Posted on at


اسرارالحق نام تھا۔ مجاز تخلص تھا۔ 1911ء میں قصبہ رودلی ضلع باڑہ ہنکی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد شیخ سراج الحق جج کے عہدے پر فائز تھے۔ اور پورے قصبے کے معزز لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ چنانچہ لکھنؤ، آگرہ اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی۔ 1935ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے بی۔ اے امتحان پاس کیا۔ اسکول کے زمانے ہی سے شعر و سخن سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی اور شعر کہنے لگے۔

علی گڑھ میں قیام کے دوران ہی ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے۔ غزلوں کے ساتھ ساتھ نظمیں بھی کہنے لگے۔ " رات اور ریل " اور "انقلاب" وغیرہ اسی دور کی مشہور نظمیں ہیں۔ 1936ء میں جب دہلی میں ریڈیو سٹیشن قائم ہوا تو آل انڈیا ریڈیو میں میگزین ایڈیٹر ہوگئے۔ اس زمانے میں ان کی نظم " آوارہ " بہت مشہور ہوئی۔ ریڈیو دہلی سے ملازمت ترک کرنے کے بعد کچھ دنوں بمبئی کے محکمہ اطلاعات میں بھی ملازم رہے۔ اس کے بعد والدین کے ساتھ لکھنؤ میں اپنے والدین کے ساتھ مستقل طور پر قیام پذیر ہوگئے۔ یہاں " حلقہ ادب " کے سرگرم کارکنوں کے ساتھ مل کر ایک رسالہ " ایک نیا ادب " شروع کیا۔ اس کے بعد ہارڈنگ لائبریری دہلی میں ملازم ہوگئے۔ 1946ء میں فلمی گانے لکھنے کی غرض سے ممبئی چلے گئے۔  مگر پھر واپس لکھنؤ آگئے۔ مجاز کی طبیعت میں بڑا لا ابالی پن تھا۔ اس لیے کہیں بھی مستقل طور پر نہ ٹک سکے۔ مگر شعر و سخن کو ہی کل وقتی مشغلے کے طور پر جاری رکھا۔ شراب کے بڑے رسیا تھے۔ اور یہی چیز ان کو لے ڈوبی۔ یہی وجہ ہے کہ عین جوانی میں 1955ء میں انتقال کرگئے۔

نظموں غزلوں کا پہلا مجموعہ  " آہنگ " 1938ء میں لکھنؤ میں شائع ہوا۔ دوسرا مجموعہ " شب تاب" لے نام سے 1945ء میں شائع ہوا۔ بعد میں یہی مجموعہ اضافے کے ساتھ " ساز نو" کے نام سے شائع ہوا۔

اسرارالحق اس دور کی پیداوار ہیں۔ جب ملک میں ایک انقلاب انگیز کیفیت طاری تھی۔ فکری اور سیاسی دونوں اعتبار سے انقلاب آیا ہوا تھا۔ اور ایک حساس آدمی کا اس سے متاثر ہونا یقینی تھا۔یہ وہ دور تھا جب ترقی پسند تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس کا مقصد اردو ادب و شاعری کے ذریعے معاشرتی و اقتصادی ناہمواری کو دور کرنا تھا۔  اور طبقاتی کشمکش کا خاتمہ کرنا تھا۔ چنانچہ اس تحریک سے وابستہ شاعروں اور ادیبوں نے مزدور و محنت کش طبقے کو اپنا وضوع بنایا اور سرمایہ دارانہ نظام کے درپے ہوگئے۔ اس میں وہ اس قدر آگے بڑھ گئے کہ مذہب اخلاق کی تمام حدود و قیود کو خیر آباد کہہ دیا۔ مجاز بھی اس تحریک سے وابستہ ہو گئے۔  لیکن انہوں نے اپنی فکر اور ذہن کو حقیقت کے اظہار کا اس طرح ذریعہ بنایا کہ اس میں حسن و خیر کا پہلو نمایاں رہے۔ انہوں نے دوسرے ترقی پسند شاعروں کی طرح اپنے کلام میں بو الہوسی کے جذبات و خیالات کو راہ نہ دی اور نہ ان الفاظ کا سہارا لیا جو نفسانی خواہشات کو ابھارنے میں ممد ثابت ہوتے ہیں۔ غرض انھوں نے تازگی و رعنائی ، ساز و آہنگ اور حریت و کلام سے اپنے کلام کو آراستہ کیا اور بلاشبہ ترقی پسند شاعروں کے گروہ میں مجاز بڑے سربر آوردہ ہیں۔

 



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 0
160