حکایت

Posted on at


حضرت لقمان ؑ  ایک بہت بڑے حکیم،دانا،عالم اور بزرگ تھے۔ ایک دن وہ بازار سے گزر رہے تھے تو انھیں ایک ا میر شخص نے اپنا مفرور غلام سمجھ کر پکڑلیا۔ وہ شخص مکان تعمیر کر رہا تھا ، اس نے آپؑ کو مزدوروں والے کام پر لگا دیا۔ آپ سارا دن مٹی کھودنے والا بامشقت کام کرتے رہے آپ نے اس امیر شخص سے کچھ نہ کہا آپ روزانہ یہ بامشقت کام کرتے رہتے یہاں تک کہ ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ پھر ایک دن اتفاق سے اس امیر آدمی کا مفرور غلام لوٹ آیا۔ اس نے      جب   لقمان ؑکو مٹی کھودتے ہوۓ دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ وہ لقمانؑ کو جانتا تھا۔اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔

وہ بھاگتا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا اور آپ ؑ کے بارے میں بتایا۔اس کا آقا حقیقت جان کر بہت شرمندہ ہوا۔وہ آپ کے پاس آیا اور آپ سے معافی مانگنے لگا۔ حضرت لقمانؑ نے فرمایا "بھائ جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ لیکن میں بھی کوئی گاٹے میں نہیں رہا ۔ میں نے یہاں رہ کر اور مشقت بھرا کا م کر کے ایک علم و حکمت کی بات سیکھی ہے۔ اس امیر آدمی نے پوچھا کہ وہ بات کیا ہے تو آپ نے فرمایا"وہ بات یہ ہے کہ کسی کو بھی کم درجے کا سمجھ کرمشقت میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ مجھے بھی اس بات کا احساس نہیں تھا لیکن ایک سال کی مشقت سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کسی انسان پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ میرا بھی ایک غلام ہے۔اب تک اس سے مشقت بھرا کام لیتا رہا ہوں لیکن اب مجھے احساس ہو گیا ہے کہ یہ کتنی تکلیف دہ بات ہے۔

                           



About the author

haider-ali-7542

Student of BS Chemistry.

Subscribe 437
160