شادی جیسے بندھن میں بھی دھوکہ

Posted on at


شادی ایک پاکیزہ اور انمول بندھن ہے۔ لیکن آج کے برائی اور دھوکے کے دور میں اس بندھن کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ آج کل کے دور میں لوگ اتنے لالچی اور سنگ دل ہو گئے ہیں کہ انھیں پیسے کے علاوہ اور کچھ بھی دیکھائی نہیں دیتا۔ آج میں آپ کو اپنے جاننے والوں کا واقع سناو گی۔


 



 


ہمارے دور کے جاننے والے کچھ لوگ تھے۔ ان کے تین بچے تھے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ان کی تمام فیملی اچھی خاصی پڑھی لکھی اور ماڈرن تھی۔ بہن بھائی مین سب سے بڑا بیٹا تھا جو کہ ڈاکٹر تھا اس سے چھوٹی بہن انجینیر تھی اور سب سے چھوٹی بہن ابھی پڑھ رہی تھی۔ آج سے تقریباً ایک سال پہلے انھوں نے اپنے دو بچوں کی شادی کی ایک بیٹے کی اور ایک بیٹی کی بیٹے کی شادی تو انھوں نے اپنے قریب کے رشتہ داروں میں کی لیکن بیٹی کی شادی خاندان سے باہر کی وہ لوگ دیکھنے میں بہت اچھے اور اچھے خاصے امیر تھے۔ انھوں نے اپنے بچوں کی شادی بہت دھوم دھام سے کی بہت سے لوگوں کو بلایا جس نے بھی بیٹی کے سسرال والوں کو دیکھا اس نے ہی یہ کہا کہ آپ کی بچی کی تو قسمت ہی کھل گئی ہے اتنے اچھے لوگ لگ رہے ہیں آپ کی بیٹی تو راج کرے گی۔


لڑکی کے ماں باپ بہت خوش اور پر سکون تھے کہ ہماری بڑی بیٹی کی قسمت اتنی اچھی ہے اسی لیے اتنا اچھا رشتہ نصیب میں ہوا ہے لیکن نصیب کا لکھا کون جان سکتا ہے۔



About the author

160