جنسی تشدد سے بچنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات ‘حصہ ۲‘

Posted on at


جنسی تشدد سے بچنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات


            بالواسطہ طریقہ تربیت    :۔             


بالواسطہ طریقہ تربیت سے مراد بچوں کو براہ راست جنسی تشدد سے بچانے کی بجائے بالواسطہ تربیت دینا ہے۔ یعنی بچوں کو کہنا کہ گھر سے اکیلے باہر نہیں جانا، کسی اجنبی سے کویہ چیز لے کر نہیں کھانی اور نہ ہی کوئی بات کرنی ہے۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو بند کمرے میں کھیلنے نہ دینا یہ سب بالواسطہ طریقہ تربیت ہیں۔



اب ہم ٹیبل کا مطالعہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہماری کمیونٹی میں بچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کی تربیت دی جاتی ہے یا کہ نہیں؟ اگر دی جاتی ہے تو کس طرح دی جاتی ہے۔
ٹیبل کے مطابق ۴۱.۶فیصد جواب دہندگان ایسی تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کو بالواسطہ تربیت دی۔ جب جواب دہندگان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیا اپنے بچوں کو جنسی تشدد سے بچنے کیلیے کوئی تربیت دی ہے؟ اس پر ان کا فوری جواب ہاں میں تھا انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو یہ بتایا ہے کہ کسی اجنبی کے ساتھ نہیں جانا اور کسی سے کوئی چیز بھی لے کر نہیں کھانی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ لڑکیوں کو بھی باہر نہیں نکلنے دیتے اور نہ ہی وہ گھر سے اکیلی باہر نکلتی ہیں۔ اس طرح انہیں نے یہ بھی بتایا  کہ وہ اپنے بچوں پر تڑی نگاہ رکھتے ہیں۔ تاکہ ان کے ساتھ کوئی بھی ’اس قسم کی بات نہ ہوجائے‘۔


 



بالواسطہ طریقے سے جنہوں نے بھی تربیت دی ان میں ان پڑھ سے لے کر ڈاکٹرز تک شامل تھے۔ ان کا وہی طریقہ تربیت چلا آرہا تھا جس طرح خود ان کی پرورش ہوئی۔ سب سے زیادہ تعلیمی معیار چونکہ بی اے تھا۔ ان میں سے بھی زیادہ سے زیادہ ماہیں بچوں کو بالواسطہ تربیت دینے پر ہی زور دیتی تھیں۔



لہٰزا یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ معیاری تعلیم بہتر ہو جانے سے ضروری نہیں ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو جنسی تشدد سے بچنے کیلیے تربیت دیں۔ بہت سی مائیں جو خوشحال پس منظر رکھتی تھیں اپنے بچوں کو بالواسطہ طریقے سے تربیت دی رہی تھیں۔



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160