(حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (حصہ اول

Posted on at



گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے


جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار



ابتدائی حالات


حضرت مجدد الف ثانی  26 جون 1526 ء کو ہندوستان کے مشہور شہر سر ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا عبد الاحد بہت بڑے عالم تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت عمر فاروق سے جا ملتا ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ مشہور علما کی سرپرستی میں علم حاصل کرتے رہے۔ علم تصوف میں اپنے والد سے سلسلہ چشتیہ اور قادریہ کی تعلیم حاصل کی۔ 17 سال کی عمر میں درس و تدریس سے منسلک ہو گے۔ حضرت باق باللہ کے زیر سایہ تصوف کی راہ پر گامزن ہو گئے۔



دین الٰہی


اکبر ہندوستان پر پچاس سال تک حکمران رہا۔ وسیع سلطنت کو قائم رکھنے کے لئے اس نے مختلف پالیسیاں اختیار کیں۔ راجپوتوں کے ساتھ رشتے طے کئے۔ بڑے بڑے عہدے دئے گئے۔ غیر مسلم بیویاں ہر وقت اکبر کے ذہن پر چائی رہتی تھیں۔ اکبر مذہبی، مباحثوں میں بھی دلچسپی لیتا تھا۔ درباری دنیا پرست مسلمان علما برہمن اور آتش پرست بھی آپ کی صحبت میں رہتے تھے۔ اکبر شیخ مبارک اور اس کے بیٹوں ابو الفضل اور فیضی سے کافی متاثر تھا۔ اس کا نتیجہ ےع نکلا کہ اکبر اپنے آپ مجتہد اور مذہبی راہنما سمجھنے لگا۔ وسیع سلطنت کو سیاسی لحاظ سے متحد رکھنے کے لئے اکبر نے مختلف مذاہب کی تعلیمات اکٹھی کر کے ایک نیا مذہب بنایا۔ ےہ مذہب دین الٰہی کہلاتا تھا۔ دین الٰہی اسلامی تعلیمات کے منافی تھا۔ اس کے خلاف جہا د لازمی تھا۔ آپ نے رسالہ "اثبات نبوت" تحریر کیا۔ اس رسالے مےں آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو عقلی دلائل سے ثابت کیا۔ اور دین الٰہی قبول کرنے والوں کو راہ راست پر لانے کی کوششیں کیں۔ آپ نے امرائے سلطنت کو تبلیغی خطوط تحریر کئے۔ ان پر واضح کیا کہ دین الٰہی سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے۔ ےہ ہر مسلمان کا دینی فرض ہے کہ وہ دین الٰہی کے خلاف اٹھ کھڑا ہو۔ اس کے اثرات کہ ختم کر دیا جائے۔ اکبر نے کئی علما کو سخت سزایں دے کر خاموش کر دیا تھا۔ لیکن مرد قلندر اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہا۔ راستے کے طوفان اس عظیم مفکر کا راستہ نہ روک سکے۔ آپ کی کوششیں پارآور ثابت ہوئیں۔ ااکبر کی بے دینی کے خلاف آپ نے اپننے پیروکاروں کی ایک بڑی جماعت تیار کر لی۔ اس جماعت نے اکبر کے بے دینی اور الحاد کے معاشرے کو اس غلاظت سے پاک کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔



شیخ محمد اکرام کے مطابق "خواجہ باقی باللہ کے آنے سے قبل ہندوستان میں قادریہ، سہروردیہ اور چشتیہ سلسلے موجود تھے۔ ےہ ایران اور عراق کے پیداوار تھے۔ ان میں معمولی اختلافات تھے لیکن روحانی لحاظ سے کوئی مخالفت نا تھی۔ ان میں صلح کل کا طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔"


 


 



About the author

Muhammad989

I am Lecturer in Chemistry at Cadet College Kalar Kahar.... Pakistan.....

Subscribe 1483
160