جنسی تشدد سے بچنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات ‘حصہ ۳‘

Posted on at


"جنسی تشدد سے بچنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات" 


میرے پچھلے بلاگز میں بیان کی گئی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جواب دھندگان زندگی کے بارے میں وسیع النظر نہیں تھیں اور نہ وہ بچوں کے بارے میں زیادہ سوچتی تھیں۔ ان کے ہاں بچوں کو تعلیم دلوانا ان کی ضروریات زندگی پوری کرنا سب سے اہم تھا۔ جبکہ وہ بچوں کے زہنی مساہل یا جنسی تشدد کے بارے میں نہیں سوچتی تھیں۔



کچھ عورتوں نے یہ اقرار کیا کہ بالواسطہ طور پر وہ حفاظتی اقدامات کرتی ہیں۔ مثلا اپنی بیٹیوں کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتیں۔ اگر چہ وہ جان بوجھ اس عمل کے پس پردہ نہیں سوطتیں اور نہ ہی اس کا تعلق بچوں پر جنسی تشدد سے ہے۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ ویسا ہی کر رہی ہیں جیسا کہ انہیں نے بچپن میں سیکھا۔




ان جواب دہندگان کا معیار تعلیم بہتر نہ تھا۔ اور نہ ہی معاشی حالت اچھی تھی اور زندگی کے بارے میں زہنی وسعت بالکل بھی نہیں تھی۔ سروے کے اس حصے میں یہ ظاہر ہوتا ہے بالواسطہ طریقہ تربیت دو تنقیدی وجقہات کی عدم موجودگی کی بنا پر نشونما پاتی ہے۔



ایک تو زہنی وسعت اور دوسرا سمجھ بوجھ کی گہرائی۔ ان ماؤں میں بھی بچوں کی رسمی تعلیم کا حصول اور بنیادی ضروریات کی فراہمی پر اعتماد کرتے ہیں۔ لیکن جہاں جنسی تشدد کی بات آتی ہے وہاں یہ جاننا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ والدین کن کن رشتوں پر اعتماد کرتے ہیں اور کن پر نہیں کرتے۔



اس موضوع پر کی گئی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ تشدد کرنے والا کوہی بھی ہو سکتا ہے اس لیے عملی زندگی میں ہم کسی پر اعتماد نہیں کر سکتے۔


 



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160