فضول خرچی بُری عادت ہے

Posted on at


ایک د فعہ طیبہ کی امی باورچی خانے میں آئیں انھیں کوئی کام تھااور دیکھا کہ برتنوں میں بچا ہوا کھانا پڑا تھا جس میں روٹی کےٹکڑے، تھوڑا بہت سالن، سلاد، کھیر اور د ہی وغیرہ بچا ہوا پڑا تھا. کھانے کو اس حالت میں ضائع ہوتےہوۓ دیکھ کران کو بہت دکھ ہوا.                                                               

 
صبح سے ہی ان کی طبیعت اتنی خراب تھی کہ وہ بستر پر آرام کر رہیں تھیں. تھوڑی سی طبیعت ٹھیک ہوئی ہی تو انھوں نے سوچا کہ اٹھ کر کچھ کام کر لیا جاۓ. وہ اٹھتے ہی باورچی خانے میں آئیں تو یہ سب حالت دیکھ کر پریشان ہو گیئں. پھر انہوں نے دھوپ میں کرسی کھینچی اور خاموشی سے بیٹھ گیئں. طیبہ نے اپنی امی کو یوں پریشان بیٹھے دیکھا تو وہ بھاگتی ہوئی اپنی امی کے پاس آئی اور پوچھا کہ اب آپ کی طبیعت کیسی ہے. انھوں نے جواب میں کہا کہ طبیعت تو اب کچھ ٹھیک ہے لیکن میں اب بھیبہت پریشان ہوں. طیبہ نے پوچھا کیوں امی جان کیا ہوا تو انھوں نے کہا کہ تم لوگ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے کیا باورچی خانے میں جا کر دیکھو پلیٹوں میں کتنا زیادہ کھانا ضائع ہوا ہے. بیٹا پلیٹ میں بندہ اتنا ہی کھانا لیتا ہے جتنا کھا سکے اور  ضرورت پڑنے پر بندہ پھر دل لیتا ہے لیکن اس طرح کھانا ضائع ہوتا ہے اور اللہ پاک بہت زیادہ ناراض ہوتے ہیں. ماں نے دیکھا سب بچے ان کی بات بہت غور سے سن رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ میرے پیارے بچو اللہ پاک کی بہت بڑی ہم پر مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں طرح طرح کی نعمتیں بخشی ہیں اور ان سب کو ضائع کرنے سے خدا کی ناشکری ہوتی ہے اور اللہ پاک ہم سے ناراض ہوتے ہیں.                                                         

   

امی نے بچوں کو بولا کیا تمھیں ہمارے پیارے نبی حضرت محمّد کے کھانا کھانے کا طریقہ پتا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ضرورت سے کم کھانا اپنی پلیٹ میں ڈالا کرتے تھے، چھوٹا نوالہ اٹھاتے تھے اور اسے اچھی طرح چبا چبا کے کھایا کرتے تھے. ہمیشہ وہ تب کھاتے جب جب انھیں بھوک لگتی تھی اور کھانا کھانے کے بعد اپنی پلیٹ کو بہت اچھی طرح صاف کرتے تھے. کوئی بھی کھانے کی چیز دسترخوان پر گرتی تو وہ صاف کر کے کھا لیا کرتے تھے حتٰی کہ پانی بھی وہ تین سانس میں پیا کرتے تھے. ہمیں تمام تر باتوں میں اپنے نبی کا طریقہ یاد رکھنا  چائیے اور اسے اپنانا چائیے تاکہ ہماری ہر چیز میں برکت ہو. 

   پھر ماں نی اپنے بچوں کو بتایا کہ یہی کھانا اب طریقے اور سلیقے سے کھایا جاتا تو وہ کبھی بھی ضائع نہ ہوتا. یہ کسی اور کے کام آ جاتا. کھانے کی یہ ناقدری گناہ اور فضول خرچی ہے. ہمارے پیارے نبی نے ہمیں سختی سے فضول کرچی سے منع فرمایا ہے اور پھر بچوں سے و عدہ لیا کہ وہ آئندہ ہر بات کا بہتخیال رکھیں گے تاکہ وہ ایک بہت اچھے اخلاق کے مالک بن سکیں.



About the author

160