دعا اور نا شکری

Posted on at


دعا کے معنی ہیں ہاتھ پھیلانا عاجزی کرنا یا یہ کہنا درست ہو گا کہ اپنے اللہ سے ڈریکٹ رابطہ کرنا اور اس سے خوشنودی مانگنا یا جو ضرورت یا حاجت ہے وہ اس پاک ذات سے طلب کرنا۔


 



 


اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان جو اپنے اللہ سے مانگتا ہے وہ اسے فورا مل جاتا ہے اور وہ اس سے خوش بھی ہوتا ہے کہ اللہ نے اس کی سن لی اور اسے وہ عطا کر دیا جو اس نے مانگا تھا اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ جو مانگتا ہے وہ اسے فل وقت نہیں ملتا تو وہچکہ اللہ نے اس کی سنی نہیں یا اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرتا ایسا نہیں ہوتا بلکہ اللہ اس کے لیے اس سے بہتر چاہ رہا ہوتا ہے جو وہ مانگ رہا ہوتا ہے لیکن انسان نا شکرہ ہے وہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ اللہ کی ذات کتنی بڑی اور عظیم ہے ۔


 



 


ایسا ہوتا ہے کہ ہم کوئی کوتا ہی کر جاتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں اور یہی کہتے رہتے ہیں کہ ہماری قسمت ہی خراب ہے یا پتہ نہیں اللہ پاک ہماری دعا کیوں نہیں سنتا ہمیں یہ کہنے سے پہلے اس کی ذات اور فضل کو ضرور دیکھنا چائیے کہ آج ہم جس مقام پر ہیں اس کے فضل اور کرم کی وجہ سے ہیں یہ سب ہمارے ماں باپ اور بزعگوں کی دعائیں ہیں جو اللہ پا ک نے سنی ہیں جو ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔
ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چائیے اور اس کے فضل اور کرم کو دیکھنا چائیے جو اس نے ہم پر کیا ہے نہ کہ ناشکری کر کے گنہگاروں میں شامل ہوا جائے۔


 



 


 



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160