سسٹم کا زہر _ حصہ دوم

Posted on at



دادا گیر،بدمعاش،غنڈے،چورلٹیرے،ڈاکو،بلیک میلر،بڑےبڑے ڈرگ مافیا اور منشیات کا کالا دھندہ کرنے والے"سسٹم کا زہر"آئین اور قانون کے پیالوں میں بھر بھر کر غریبوں،مسکینوں،مفلسوں،مجبوروں،بےکسوں،اور لاچاروناتواں دکھی انسانیت کے حلق سے نیچے اتارہے ہیں ۔سسٹم کے اس "زہر"کو پلانے کے بعد ان کی جواں بیٹیوں کی سربازار عصمتیں لوٹی جاتی ہیں ان کی عزتوں کو پامال کیا جاتا ہے،شریفوں کی پگڑیاں بیچ چوراہے میں اچھالی جاتی ہیں ۔ان کی جیبوں میں ہیروئن کی پڑیاں ڈال کر جعلی مقدمات بنا کر جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ان کی زمینوں پر چوہدری ،وڈیرے اور جاگیردار قبضہ جمالیتے ہیں۔انہیں وڈیروں کی نجی جیلوں میں قید رکھا جاتاہے،انہیں ظلم کے خلاف احتجاج کرنے پر فیکٹریوں اور فونڈریوں میں زندہ جلا کر بھسم کردیاجاتا ہے۔کسی دانا نے کہا کہ"وہ زمانہ جس میں لوگ حق سے محروم ہوں اور کچھ لوگ حق سے زیادہ حاصل کریں،افراتفری کا زمانہ کہلاتا ہے۔جہاں ہر شے،ہر جنس ایک ہی دام فروخت ہونے لگے اسے اندھیر نگری کہا جائے گا"۔۔ظلم اور اندھیروں کے اس دور میں مجھے میرے آقاؐ یاد آرہے ہیں،بیشک آپؐ نے برحق فرمایا کہ "ظلم سے بچو کہ ظلم قیامت کے اندھیروں میں سے ہے۔"
"سسٹم کا زہر" پلانے والوں نے قوم کو ایسے نشے میں غرق کردیا ہے کہ قوم بیچاری ظلم سے بچنے کے لیے اٹھ نہیں پارہی ۔ظلم کے مارے ہوئے لوگ لب کھولنے لئے تیار نہیں۔لیکن آخر وہ کب تک اسی طرح"سسٹم کا زہر"پیتے رہیں گے؟ایک نہ ایک دن ضرور علم بغاوت بلند کرنا پڑے گا۔۔لوگ جو ظلم تو سہہ رہے ہیں لیکن آواز حق کے لئے نہیں اٹھ رہے،شاعر نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا ہے،
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی                                                             
جوظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا                                                                                      
کیا ہم اور ہماری آنے والنی نسلیں بھی یہ "زہر"اسی طرح پیتے رہیں گے جس طرح کہ ہمارے پرکھوں کو یہ"نشہ"پلایا جاتارہا ہے۔


TAGS:


About the author

DarkKhan

my name is faisal ......

Subscribe 2284
160