اپنا گھر

Posted on at



امی کیا سو گئیں، صوفیہ نے امی سے پوچھا
نہیں تو بیٹا، کہو کیا بات ہے؟ ہما بیگم نے شفقت سے پوچھا
امی ایک بات پوچھوں؟
ہاں ہاں بیٹا! سو باتیں پوچھو
امی کیا عورت کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا، وہ جہاں پیدا ہوتی ہے، جس گھر میں اپنا بچپن گزارتی ہے، وہ گھر اس کے باپ کا اور بھائیوں کا ہوتا ہے- پھر جہاں بیاہ کر جاتی ہے اور جہاں اپنی جوانی گزرتی ہے وہ اس کے شوہر کا گھر اور پھر اس کا بڑھاپا جس کی خدمت کرتے گزرتا ہے وہ اس کے بیٹے کا گھر ہوتا ہے
امی! کیا عورت کے مقدر میں گھر کا نہ ہونا ہی لکھا ہے؟
بیٹا بس بھی کرو؟ ہما بیگم نے بردباری سے کہا ضروری تو نہیں ہے کہ ہر عورت کا مقدر ایک جیسا ہو؟
امی کیسے نہیں ہو سکتا؟ ماسی زینت کو دیکھئے! حرا کی ماما کو دیکھیں، کرن کی بہیں اور لاتعداد ایسی مثالیں ہیں اب آپ اپنے آپ کو دیکھیں- آپ بھی تو ماں باپ کی لاڈلی تھیں- آپ کو کیا ملا؟ ماں باپ نے شادی کر کے اپنا بوجھ اتار دیا اور آپ شادی کے ٢ سال بعد ہی طلاق کا داغ ماتھے پر سجا کر واپس ان کی دہلیز پر آگئیں- وہی ماں باپ جن کو آپ جان سے زیادہ عزیز تھیں، ان پر آپ بوجھ بن گئیں- آپ خود پر جان دینے والے بھائی اور بھابی کے لئے وبال جان بن گئیں



صوفیہ کچھ زیادہ ہی مایوس ہو رہی تھی اور - - - - "اور امی ایک بات پوچھوں آپ نے ابو سے طلاق کیوں لی - - - ؟؟؟ کیا آپ سمجوتہ نہیں کر سکتی تھیں - - - ؟ پتا نہیں ماں باپ آپس میں جھگڑوں کو سکون سے کیوں نہیں نمٹاتے؟ کیا آپ لوگ شادی سے پہلے نہیں کر سکتے کہ ایک دوسرے کے ساتھ نباہ کر بھی سکیں گے یا نہیں- ذرا سی ضد کے پیچھے اولاد کی زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں- وجہ کچھ بھی ہو انہیں افہام و تفہیم سے کام چاہیے- میرے نزدیک تو اولاد سب سے زیادہ مظلوم ہوتی ہے جو چکی کو دو پاٹوں میں پستی ہی چلی جاتی ہے- اصل قصور وار والدین ہوتے ہیں جو اپنے کئے کی بھینٹ اپنی اولاد کو چڑھاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے بچے بھیڑ بکریوں کی طرح ادھر سے ادھر پھرتے ہیں
بیٹا بس بھی کرو - - - دنیا میں صرف ایسے ہی لوگ نہیں بستے - - - رہنے دیں امی! دنیا ایسے بچوں سے بھری پر ہے کچھ تو خودکشی کر لیتے ہیں اور کچھ ذہنی مریض بن جاتے ہیں اور یہ کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے اور امی کچھ حساس بچوں کا حال میرے جیسا ہوتا ہے جو نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں


زندہ کیوں رہتے نہیں کیوں خودکشی کرتے ہیں لوگ
میرے جینے سے مجھے یہ اصلیت  مل جاۓ گی


صوفیہ دل کی بھڑاس نکال کر روتے روتے سو چکی تھی- لیکن ہما بیگم کے ذہن میں بار بار صوفیہ کی باتیں گونج رہی تھیں- وہ حقیقت جانتے ہوۓ بھی اپنے آپ کو مجرم ٹھہرا رہی تھیں- کس کس طرح سے انہوں نے اپنے سابقہ شوہر کی منتیں کی تھیں کہ وہ انہیں طلاق نہ دے لیکن کسی دوسری عورت کے حسن میں وہ شخص اس قدر گم ہو چکا تھا کہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے ہما کو طلاق دے دی، جس کی سزا ہما کے ساتھ ساتھ صوفیہ کو بھی تمام عمر ملتی رہی
اس میں صوفیہ کا کوئی قصور نہ تھا ایسے بچے وقت سے پہلے بڑے ہو جاتے ہیں، اور صوفیہ ضرورت سے زیادہ حساس تھی اس وقت بھی اس پر فرسٹریشن کا دورہ پڑا تھا، ورنہ وہ ایک سلجھی اور سمجھدار لڑکی تھی- اس کی زندگی کا مقصد اپنی ماں کی خدمت کرنا اور ان کو ایک گھر بنا کر دینا تھا کہ جس میں ہما بیگم کے نام کی تختی ہو، اور جو حقیقت میں اس کا اور اس کی ماں کا گھر ہو
صوفیہ نے محنت کی اور ایک کامیاب سرجن بن گئی- اس کی درینہ خواہش کی تکمیل کا وقت آچکا تھا- اس نے گھر بنایا اور اپنی ماں کے نام کی تختی لگائی- ایک دن جب وہ ہسپتال سے واپس آئی تو امی بستر پر لیٹی ہوئی تھیں ان کا بلڈ پریشر بھی بہت ہائی تھا اور طبیعت خراب تھی اس نے سوچا کہ وہ کل امی کو چیک اپ کرائے گی مگر صبح آنے سے بہت پہلے ہی ہما بیگم اپنے ابدی گھر جا چکی تھیں- نہ صوفیہ روئی نہ اسے ماں کے غم نے گھیرا، وہ اپنی ماں کا انتظار کرتی رہی کہ شاید کہ کسی روز ماں واپس آجائے



ایک دن وہ اپنی ماں کی الماری صاف کر رہی تھی کہ اس کی ڈائری نکل کر پڑھنے لگی پہلے ہی ورق پر تحریر نظم کو پڑھ کر اس کی حیرت زدہ آنکھیں کھلی رہ گئیں
اتنی بڑی دنیا میں
اپنے نام کی تختی والی
ایک عمارت
کتنے دکھوں کی اینٹیں چن کر
گھر بنتی ہے
جب کہ میری قسمت میں
ایک عمارت بھی تو نہیں ہے
شاید میرے نام خدا نے
لکھی ہی دو گز کی زمین ہے


 



About the author

160