رمضان المبارک ہمارے لیے باعث نجاعت

Posted on at


رمضان المبارک ہمارے لیے باعث نجاعت


 


رمضان المبارک کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں ایک رات ایسی ہے جسے لیلتہ القدر یا شب قدر کہا جاتا ہے۔ اس ایک رات کی فضیلت اتنی ہے کہ اگر کوئی اس ایک رات کو پا لے اور اس میں عبات کرے تو اسے ہزار مہینے کی راتوں سے بھی زیادہ کا ثواب ملتا ہے۔ اور ہزار مہینے 83 سال 4 مہینے بنتے ہیں تو گویا اس ایک رات کا ثواب ان 83 سال 4 مہینوں کی راتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔



عام طور پر آج کل کے انسان اتنے لمبی عمر کا نہیں ملتا، اللہ پاک کا اپنی امت مسلمہ پر اتنا کرم ہے کہ اس نے اپنی امت کو اتنی فضیلت والی رات بخش دی۔


اللہ تعالٰی رمضان المبارک میں روزانہ جنت کو مزین کرتا ہے اور سنوارتا ہے اور پھر جنت سے خطاب کر کے کہتا ہے کہ " میرے نیک بندے اس مہینے میں اپنے گناہوں کی معامفی مانگ کر اور مجھے راضی کر کے تیرے پاس آئیں گے"



رمضان المبارک کی ہر رات کو اللہ تعالٰی جہنم سے اپنے بندوں کو آزادی فرماتے ہیں۔رمضان البارک کی آخری رات میں تمام روزہ داروں کی مضفرت کر دی جاتی ہے اگر انہیں نے روزہ رکھنے کا صیحح طرہقہ سے حق ادا کیا ہو، فرشتے اس وقت تک روزاہ داروں کے لئے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک کہ روزہ دار روزہ افطار نہ کرلے، روزہ دار کے منہ بو اللہ پاک کے نزدیک بہت افضل اور پسندہدہ ہے۔


 


کیا ہم نے کبی سوچا ہے کہ ہمین اللہ تعالٰی نے جو یہ رمضان المبارک کا با برکت مہینہ عطا کیا ہے، کیا ہم صیحح طریقہ سے اس کا حق ادا کر رہے ہیں، اپنے روزوں کا خیال رکھ رہے ہیں یا پھر صرف بھوک کے نام روزہ ہے ہمارا؟ کیا ہم اس بابرکت مہینے میں اللہ کی نافرمانیاں کرنے سے بچھے ہیں یا پھر معمول کے مطابق سب غلط کام سرانجام دے رہے ہیں؟ اور کیا ہم اس مہینے میں اپنے رب کو راضی کر رہے ہیں یا پھر ان بد نصیب لوگوں میں ہمارا شمار ہو گا جو لوگ رمضان المبارک کا مہینہ پاتے تو ہیں پر اس مہینے میں اپنے رب کو راضی نہیں کرسکتے اور نہ ہی اپنے گناہوں کی بخشش کراسکتے ہیں۔ 



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160