ذات باری تعالیٰ

Posted on at


 


 


“قُل اللہُ ھوُ احد اللہُ صمد لم یلد ولمیولد ولم یکن لہُ کُفو ون احد”


ترجمہ:


آپؐ فرما دیجیئے کہ اللہ ایک ہے وہ اللہ بے نیاز ہے نہ اسکی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں۔“



اللہ تعالیٰ جل شانہُ ایک ہی ذات ہے جو عبادت کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ خالق اور کائنات ساری مخلوق ہے۔ وہ ہی ذات مستحق عبادت ہے۔ سب بندے اسی کے ہیں ارض و سمآء کی تمام خوبصورتیاں، روشنیاں، شادابیاں، تاریکیاں، خوشبوئیں یعنی ہر چیز اسی کے لئیے ہے۔ وہ مکمل زات ہے وہ واحد زات جو کسی کی محتاج نہیں بلکہ سب اسکے محتاج ہیں سب اس کے در کے آگے جھکتے ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں اسی کے سامنے اپنے ہاتھ اور جھولیاں پھیلاتے ہیں۔ مگر سب کے انداز مختلف ہیں کوئی تو اس سے براہ راست مانگتے ہیں اور کوئی کسی کو ذریعہ بنا کر مانگتے ہیں۔ مگر سب مانگتے اس کے نام سے ہیں۔


 


وہ واحد ذات ہے جو خود کھاتی نہیں مگر اپنی تمام مخلوقات کو کھلاتی ہے، چاہے اسکی مخلوق میں بعض نافرمان ہی کیوں نہ ہوں۔ دنیا کا دستور ہے کہ اگر کوئی بادشاہ یا صاحب قدرت شخص کسی کو کچھ مال و متاع یا اور کوئی آسائش زندگی دے تو نافرمانی کرنے سے اسکو ان تمام آسائشوں سے محروم کر دیا جاتا ہے لیکن اللہ رب العزت وہ ذات ہے جو اپنی نافرمانیوں کو تو کیا نافرمانی میں بھی حد سے تجاوز کرنے والوں پر اپنی بخشش کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔


 


وہ ہی ذات ہے جو عزت دینے کا بھی مالک ہے اور ذلت دینے کا بھی مالک ہے۔ اسی کے لئیے تمام عزتیں ہیں۔ وَتُعِزٌّ مَن تَشَاءُ، جسکو وہ چاہے عزت دیتا ہے، وَتَذِلٌّ مَن تَشَاءُ، وہ جسکو چاہے ذلت دیتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں تمام کائنات کا نظام ہے وہ وہ کام کر سکتا ہے جسکا انسانی سوچ احاطہ بھی نہیں کر سکتی۔



تمام حکم تمام کام اللہ تعالیٰ کے لیئے ہی ہیں وہ جو چاہے جس وقت چاہے جسطرح چاہے ہر کام کر سکتا ہے، فَعَّالٌ لِمَّا یُرِید وہ کرنے والا ہے ہر وہ کام جو وہ چاہتا ہے۔ اسکو کوئی کام کرنے، کوئی چیز بنانے، سجانے، اُٹھانے، اتارنے کسی چیز یا کسی بھی قسم کے کام کو سدھارنے یا اسے برباد کرنے کے لیئے اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ اسے خود بھی کوئی مشکل سے مشکل کام کرنے میں محنت نہیں کرنی پڑتی، صرف اور صرف کُن کہنے کی دیر ہوتی ہے، کام تو خود ہی ہو جاتا ہے، جسکا وہ ارادہ کرتا ہے۔


 


زمین و آسمان کی ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے وہ تمام جہانوں، زمینوں، آسمانوں اور ان کے درمیان جو کچھ بھی موجود ہے ہر چیز کا مالک ہے،جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے، ”لِلہِ مُلکُ اسَّمٰوٰتِ وَالاَرض۔


 


بڑائی صرف اسی کی ذات کے لئیے ہے کیونکہ وہ ایک ہی ذات ہے مادی اسباب سے پاک ہے وہ کسی کی محتاج نہیں، نہ وہ کھاتا ہے، نہ پیتا ہے، نہ اسے اُونگھ آتی ہے، نہ وہ مرتا ہے بلکہ زندہ و جاوید ہے اور زندہ رکھنے والا اور قوت دینے والا، رزق دینے والا اور سب کچھ عطا کرنے والا ہے اسکے علاوہ کوئی ذات ایسی نہیں ہے جو ان تمام صفات کی مالک ہو اسی وجہ سے بڑائی صرف اسی کے لیئے ہے۔




About the author

zainbabu

My name is zain ul abidin. I am a player of gymnastic and karate. i joined bitlanders at 11th jan 2014.

Subscribe 4584
160