۱۲ سے ۱۵ سال کے بچوں کا خاص خیال حصہ دوئم

Posted on at


۱۲ سے ۱۵ سال کے بچوں کا خاص خیال حصہ دوئم


 



 


پاکستان میں اکثر بچے ۱۲ سے ۱۳ سال کی عمر میں سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں خاص طور پر بڑی عمر کے بچے ان کو یہ کام بتاتے ہیں کہ مور کا سگریٹ[مور ایک خاص قسم کے سگریٹ کا نام ہے جب اس کو جلاتے ہیں تو اس میں سے خوشبو آتی ہے]ان کو بتایا جاتا ہے کہ یہ عام سگریٹ نہیں ہے یہ سونف سے بنا ہوا ہے اس کو پینے سے کچھ نہیں ہوتا یہ وہپ سٹیج ہے جہاں بچہ سگریٹ نوشی شروع کرتا ہے اس کے بعد وہ آہستہ آہستہ ریگولر تمباکو نوشی شروع کر دیتا ہے۔
۱۳


 



 


۱۳ ۱۳ vسے ۱۴ سال کے بچے عام ایسے مل جاتے ہیں جو چرس استعمال کرتے ہیں جن میں عموما ورکشاپ میں کام کرنے والے لڑکے یا ٹرانسپورٹ میں کام کرنے والے لڑکے شامل ہیں یہ بچے ان بچوں کو جو سکول جاتے ہیں یا صاف ستھرے معاشرے میں رہنے والے بچوں ساتھ دوستی کرتے ہیں اور ان کو ایسا ثابت کرواتے ہیں کہ یہ کام بہت مشکل ہے کہ تمہارے بس کا نہیں یا تم ایسا نہیں کر سکتے کہ تم بہت نازک مزاج ہو اور ہم بہت سخت مزاج ہیں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور ان کے پیسوں سے خود بھی نشہ کرتے ہیں اور ان کو بھی کرواتے ہیں۔


 



 


یہی اچھے گھرانوں کے بچے جب نشے کی عادت مین چور ہو جاتے ہیں پھر ان کو اچھے برے کی تمیز بھول جاتی ہے مثلا ماں باپ کے ساتھ بد سلوکی کرنا۔ بہن بھائیوں کا خیال نہ رکھنا یا اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ معاشرے میں بد کردار ہو جاتے ہیں اور چوریاں اور ڈکیتاں شروع کر دیتے ہیں شروع میں کسی سے موبائل چھین لینا اس طرح سے چھوٹی چھوٹی چوریوں سے گناہ کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جس کے بارے میں کبھی انہیوں نے سوچا ہو گا نہ ان کے والدین نے کہ یہ کبھی ایسا کریں گے یہ ایسی سٹیج ہے جس سے واپسی نا ممکن ہے۔


 



 


پہلے تو ان کے نشے کی عادت ان کو واپس نہیں آنے دیتی اگر کوئی کوشش کر کےاس برائی کو چھوڑنے کی کوشش بھی کرے تو اس کے ساتھے اس کو اتنا مجبور کر دیتے ہیں کہ واپسی کا راستہ اختیار نہیں کر سکتے ۔
اس لیے ماں باپ کو چائیے کہ اس عمر میں بچوں کا خاص خیال رکھیں ارگ اس عمر میں بچوں کا حاص خیال رکھا جائے تو ان ساری مشکلا ت سے بچا جا سکتا ہے۔



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 0
160