آئیں! ہم (عوام) ہی مل کر ایک نیا پاکستان بنائیں۔۔

Posted on at


آئیں! ہم مل کر ایک نیا پاکستان بنائیں۔۔



 


موجودہ حکمران اب عوام میں ٹافیاں بانٹ رہے ہیں، ہاں! ان ٹافیوں سے کچھ لوگ تو بہل جائیں گے اور بحث کے لئے بھی نئی بات مل جائے گی۔ ام ٹافیوں کا نام انرجی سیور ہے ۔ انکل نواز شریف! واہ رے واہ، کیا انصاف ہے آپ کا پنجاب میں تو لیپ ٹاپ اور ہمیں انرجی سیور۔


انکل چلو وہ لوگ تو آپ کے حق میں نعرہ لگا دیں گے جن کے گھروں میں چولھے نہیں جلتے اور دو وقت کے کھانے کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں کیونکہ وہ انرجی سیور بیچ کر ایک وقت کے لئے اپنے بچوں کا پیٹ بھر لیں گے۔


 


 


لیکن انکل جی اب ہم ان کھلوںوں اور ٹافیوں سے بھلنے والے نہیں اب ہمیں بھی روزگار چاہیے اب ہمیں ریڑھیاں نہیں لگانی بلکہ اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت چاہیے۔ اب ہم ایک پاور فل آواز بن گئے ہیں انکل جی اب ان میں کوئی بھی بکنے والا نہیں اب تا جان کی بازی لگانے نکلے ہیں اب آپ جیسے حکمران ہماری تقدیر نہیں لکھیں گے اب ہم کود اپنی تقدیر لکھیں گے۔


 



 


اب ہم اپنے حق کی جنگ لڑیں گے بھی اور ضرور جیتیں گے کیونکہ پہلے ایک قائد اعظم کی پکار اور علامہ اقبال کی بیداری پہ سب اٹھے تھے اور ایک ملک پاکستان معرض وجود میں آیا تھا، ہم ان ہی بزرگوں کا خون ہیں اور ہم میں بھی وہی جوش اور ولولہ ہے ہم سب ملک کر اس پاک ملک پاکستان کو اس کے ٹکڑے ہونے سے بچائیں گے۔
اس پاک وطن کے ہر گھر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے بے گیاہوں کا خون بہہ رہا ہے بے حس حکمرانو اب ہم اینٹ سے اینٹ بجائیں گے وہ تو ایک علامہ اقبال تھا جس نے پورے برصغیر کو پیدا کیا تھا۔


 



لیکن اب ہم بہت سے کالم نگار، شاعر اور علماء لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کر رہے ہیں جب ہر گھر تک حق کا پیغام پہنچ جائے گا تو ہر شخص حق کی آواز سے آواز ملائے گا جب یہ حق والے ایک جگہ جمع ہو جائیں گے تو انقلاب آئے گا اور ایک خوشحالی ہوگی جس کا خوب سب نے دیکھا ہے۔


اے پیارے لوگو! ہم ایک لیڈر کے بناء ادھورے ہیں جب ہم سب حق چاہتے ہیں تو ہمیں ایک لیڈر کی ضرورت ہے جو ہماری آواز بنے خدا کا شکر ہے کہ ایسے کئی لوگ ہمارے اندر موجود ہیں بس تھوڑا ڈھونڈنے اور پہچاننے کی ضرورت ہے۔ جو کہ ایسی شخصیت ہو جو صرف حق کی جنگ لڑے جس کو اقتدار کی خوائش نہ ہو اور نہ ہی دولت کی ہوس ہو۔ جو اپنی پوری ذندگی ملک اور ملک کے لوگوں کو سنوارنے مین لگا دے جو رار کو رات اور دن کو دن نہ سمجھے اس کا سب کچھ اپنے ملک کے لئے ہونا چاہیے۔



اور جب ہمیں ایک رہنما مل گیا تو ہمیں آگے آنے کی جبائے اسکے جھنڈے تلے آنا چاہیے اور ایک قوم بن کر بڑھنا چاہیے اور جب ہم تمام لسانی، سوبائی، فروہی، مسلکی، فروعی اور دیگر اختلافات ختم کر کے اس لیڈر کی آواز پر لبیک کہیں گے تو اس ملک کی عوام کی تقدیر بدل جائے گی۔ انشاء اللہ۔



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160